صحیح مسلم حدیث ۵۴۶۳ - اکڑ کر چلنے اور ازار لٹکانے کی وعید

غرور سے ازار لٹکانا: اکڑ اور دکھاوے سے بچنے کی حدیث

صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۴۶۳

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِى حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدٍ وَهُوَ ابْنُ زِيَادٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ وَرَأَى رَجُلًا يَجُرُّ إِزَارَهُ ، فَجَعَلَ يَضْرِبُ الْأَرْضَ بِرِجْلِهِ وَهُوَ أَمِيرٌ عَلَى الْبَحْرَيْنِ ، وَهُوَ يَقُولُ : جَاءَ الْأَمِيرُ جَاءَ الْأَمِيرُ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ لَا يَنْظُرُ إِلَى مَنْ يَجُرُّ إِزَارَهُ بَطَرًا " .

محمد بن زیاد روایت:

میں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے دیکھا ایک شخص کو اپنا تہبند لٹکائے ہوئے اور مارنے لگا زمین کو اپنے پاؤں سے۔ وہ امیر تھا بحرین پر اور کہتا تھا امیر آیا، امیر آیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ نہیں دیکھے گا اس شخص کو جو اپنی ازار غرور سے لٹکائے۔“

صحیح مسلم حدیث ۵۴۶۳ کا خلاصہ

اس روایت میں ایک شخص کا ذکر ہے جو اپنی ازار لٹکائے ہوئے تھا اور پاؤں زمین پر مارتا ہوا چل رہا تھا۔ وہ بحرین کا امیر تھا اور کہہ رہا تھا: امیر آیا، امیر آیا۔ اسی موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان بیان کیا گیا کہ اللہ اس شخص کو نہیں دیکھے گا جو اپنی ازار غرور سے لٹکائے۔ اس حدیث میں تکبر کا انداز بہت صاف نظر آتا ہے: لباس، چلنے کا طریقہ، اور اپنی حیثیت کا اظہار۔ ازار لٹکانے کی حدیث ہمیں سمجھاتی ہے کہ منصب یا رتبہ انسان کو عاجزی سے دور نہ کرے۔ لباس اور چال دونوں میں انکساری ہونی چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • منصب یا عہدہ انسان کو غرور میں مبتلا نہ کرے۔
  • ازار کو غرور سے لٹکانا سخت وعید کا سبب بتایا گیا ہے۔
  • چلنے کا انداز بھی عاجزی یا تکبر ظاہر کر سکتا ہے۔
  • اپنی بڑائی کا اظہار ناپسندیدہ رویہ ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں