صحیح مسلم حدیث ۵۴۶۴ - ازار اور تکبر پر تنبیہ
ازار لٹکانے کی ممانعت: تکبر سے بچنے کا واضح پیغام
صحیح مسلم : ۵۴۶۴
صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۴۶۴
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ . ح وحدثنا ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ كِلَاهُمَا ، عَنْ شُعْبَةَ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَفِي حَدِيثِ ابْنِ جَعْفَرٍ ، كَانَ مَرْوَانُ يَسْتَخْلِفُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، وَفِي حَدِيثِ ابْنِ الْمُثَنَّى كَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يُسْتَخْلَفُ عَلَى الْمَدِينَةِ .
ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔
صحیح مسلم حدیث ۵۴۶۴ کا خلاصہ
اس روایت میں اوپر والی بات ہی نقل ہوئی ہے کہ ازار کو غرور کے ساتھ لٹکانا سخت وعید کا باعث ہے۔ متن میں یہ بھی اشارہ ملتا ہے کہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو کبھی مروان کی طرف سے ذمہ داری دی جاتی تھی۔ مگر حدیث کا مرکزی پیغام وہی ہے: انسان اپنے لباس اور چال میں تکبر نہ دکھائے۔ ازار لٹکانے کی حدیث صرف ظاہری کپڑے کا ذکر نہیں کرتی، بلکہ اس غرور کو پکڑتی ہے جو آدمی کے انداز میں آ جاتا ہے۔ ایک مسلمان کے لیے بہتر ہے کہ وہ لباس میں وقار رکھے، مگر اکڑ، دکھاوا اور بڑائی سے بچے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- لباس میں غرور شامل ہو جائے تو معاملہ سنگین ہو جاتا ہے۔
- دینی روایت ایک ہی بات کو کئی سندوں سے مضبوط کرتی ہے۔
- ذمہ داری یا عہدہ انسان کو عاجزی سے دور نہ کرے۔
- مسلمان کو اپنی چال اور لباس میں سنجیدگی رکھنی چاہیے۔
