صحیح مسلم حدیث ۵۴۶۵ - بالوں اور چادر پر اترانے کی وعید

تکبر کی سزا: بالوں اور چادر پر اترانے والے شخص کی حدیث

صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۴۶۵

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلَّامٍ الْجُمَحِيُّ ، حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " بَيْنَمَا رَجُلٌ يَمْشِي قَدْ أَعْجَبَتْهُ جُمَّتُهُ وَبُرْدَاهُ إِذْ خُسِفَ بِهِ الْأَرْضُ ، فَهُوَ يَتَجَلْجَلُ فِي الْأَرْضِ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ " .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک شخص جا رہا تھا وہ اپنے بالوں اور چادر پر اترایا آخر زمین میں دھنسایا گیا پھر وہ قیامت تک اسی میں اترتا جاتا ہے۔“ (شاید وہ شخص اسی امت میں ہو اور صحیح یہ ہے کہ اگلی امت میں تھا)۔

صحیح مسلم حدیث ۵۴۶۵ کا خلاصہ

اس حدیث میں ایک شخص کا واقعہ بیان ہوا ہے جو چل رہا تھا اور اپنے بالوں اور دو چادروں پر اترایا ہوا تھا۔ اسی حالت میں اسے زمین میں دھنسا دیا گیا، اور وہ قیامت تک اسی میں اترتا جاتا ہے۔ اس روایت کا اصل موضوع تکبر ہے۔ انسان کو حسن، لباس، بالوں یا ظاہری شان پر اترانا نہیں چاہیے۔ حدیث یہ نہیں کہتی کہ اچھا لباس خود بخود برا ہے، بلکہ یہاں مسئلہ اترانے اور خود پسندی کا ہے۔ تکبر کی حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ جب انسان اپنی ظاہری چیزوں کو بڑائی کا ذریعہ بنا لیتا ہے تو یہ خطرناک رویہ بن جاتا ہے۔ عاجزی مومن کی پہچان ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • بالوں یا لباس پر اترانا ناپسندیدہ عمل ہے۔
  • خود پسندی انسان کو سخت انجام تک لے جا سکتی ہے۔
  • اچھا لباس مسئلہ نہیں، اصل خطرہ تکبر ہے۔
  • مسلمان کو ظاہری نعمتوں پر اترانے کے بجائے عاجزی اختیار کرنی چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں