صحیح مسلم حدیث ۵۴۶۶ - خود پسندی اور تکبر کا انجام
خود پسندی سے بچیں: تکبر کے انجام کی حدیث
صحیح مسلم : ۵۴۶۶
صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۴۶۶
وحدثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ . ح وحدثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، قَالُوا جَمِيعًا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِ هَذَا .
ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔
صحیح مسلم حدیث ۵۴۶۶ کا خلاصہ
یہ روایت پچھلی حدیث کے معنی کے قریب ہے۔ اس میں بھی اسی طرح کا مضمون ہے کہ ایک شخص اپنے لباس اور ظاہری انداز پر اترایا، پھر اسے زمین میں دھنسا دیا گیا۔ حدیث کا پیغام بہت صاف ہے: انسان کو اپنی شکل، بال، چادر یا لباس پر ناز کر کے دوسروں سے بڑا نہیں بننا چاہیے۔ تکبر کی حدیث ہمیں روزمرہ زندگی کی ایک عام کمزوری پر متنبہ کرتی ہے، یعنی خود کو دوسروں سے بہتر سمجھنا۔ یہاں الفاظ کم ہیں، مگر تنبیہ بہت بڑی ہے۔ مسلمان کے لیے بہتر ہے کہ نعمت ملے تو شکر کرے، اکڑ نہ دکھائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ظاہری چیزوں پر خود پسندی خطرناک رویہ ہے۔
- حدیث تکبر کے انجام سے ڈراتی ہے۔
- نعمت ملنے پر شکر مناسب ہے، اترانا نہیں۔
- مومن کی چال، لباس اور انداز میں عاجزی ہونی چاہیے۔
