صحیح مسلم حدیث ۵۴۶۷ - اکڑ کر چلنے کی سخت وعید

اکڑ کر چلنا: تکبر اور خود پسندی کے انجام کی حدیث

صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۴۶۷

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ يَعْنِي الْحِزَامِيَّ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " بَيْنَمَا رَجُلٌ يَتَبَخْتَرُ يَمْشِي فِي بُرْدَيْهِ قَدْ أَعْجَبَتْهُ نَفْسُهُ ، فَخَسَفَ اللَّهُ بِهِ الْأَرْضَ فَهُوَ يَتَجَلْجَلُ فِيهَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک شخص اکڑ رہا تھا چلنے میں اپنی چادروں میں اور اترا رہا تھا تو اللہ تعالیٰ نے اس کو زمین میں دھنسا دیا پھر وہ قیامت تک اسی میں دھنستا چلا جاتا ہے۔“

صحیح مسلم حدیث ۵۴۶۷ کا خلاصہ

اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسے شخص کا ذکر فرمایا جو اپنی چادروں میں اکڑ کر چل رہا تھا اور خود پر اترایا ہوا تھا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اسے زمین میں دھنسا دیا، اور وہ قیامت تک اسی میں دھنستا چلا جاتا ہے۔ اس روایت میں تکبر کا عملی نقشہ سامنے آتا ہے: چال میں اکڑ، لباس پر فخر، اور اپنے آپ کو پسند کرنا۔ اکڑ کر چلنے کی حدیث ہمیں یاد دلاتی ہے کہ انسان کا ظاہری انداز اس کے دل کی حالت دکھا سکتا ہے۔ مسلمان کو چاہیے کہ اچھا لباس پہنے تو بھی عاجزی نہ چھوڑے، اور اپنی ذات کو بڑائی کا مرکز نہ بنائے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • اکڑ کر چلنا تکبر کی علامت بن سکتا ہے۔
  • اپنے لباس پر اترانا سخت ناپسندیدہ ہے۔
  • اللہ تعالیٰ نے اس روایت میں تکبر کے انجام کو عبرت بنایا۔
  • ظاہری انداز میں عاجزی رکھنا ایمان والے کے لیے بہتر ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں