صحیح مسلم حدیث ۵۴۶۸ - چادروں میں تکبر سے چلنے کی وعید
چادروں میں اکڑ: تکبر سے چلنے والے شخص کی حدیث
صحیح مسلم : ۵۴۶۸
صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۴۶۸
وحدثنا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قال : هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، عن رسول الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَيْنَمَا رَجُلٌ يَتَبَخْتَرُ فِي بُرْدَيْنِ ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِهِ .
ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔
صحیح مسلم حدیث ۵۴۶۸ کا خلاصہ
اس روایت میں بھی وہی مضمون آیا ہے کہ ایک شخص دو چادروں میں اکڑتا ہوا چل رہا تھا، پھر اس کے انجام کا ذکر کیا گیا۔ حدیث کا اصل سبق یہ ہے کہ انسان لباس کو فخر، بڑائی یا دکھاوے کا ذریعہ نہ بنائے۔ چادر پہننا خود مسئلہ نہیں، بلکہ اکڑ، خود پسندی اور دوسروں پر بڑائی جتانا مسئلہ ہے۔ تکبر سے چلنے کی حدیث ہماری عام زندگی سے بہت قریب ہے، کیونکہ کبھی انسان لباس، عہدے یا ظاہری شان سے متاثر ہو کر اپنا انداز بدل لیتا ہے۔ یہ روایت یاد دلاتی ہے کہ مومن کو وقار کے ساتھ ساتھ عاجزی بھی اختیار کرنی چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- چال میں اکڑ سے بچنا چاہیے۔
- لباس کو بڑائی دکھانے کا ذریعہ نہ بنایا جائے۔
- تکبر کا انجام حدیث میں عبرت کے طور پر بیان ہوا ہے۔
- وقار اور عاجزی ساتھ ساتھ ہونی چاہیے۔
