صحیح مسلم حدیث ۵۴۶۹ - جوڑے میں اترانے کی وعید
جوڑے پر اترانا: تکبر کے انجام کی عبرت ناک حدیث
صحیح مسلم : ۵۴۶۹
صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۴۶۹
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قال : سمعت رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : إِنَّ رَجُلًا مِمَّنْ كَانَ قَبْلَكُمْ يَتَبَخْتَرُ فِي حُلَّةٍ ثُمَّ ذَكَرَ مِثْلَ حَدِيثِهِمْ .
ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا اس میں چادروں کے بدلے جوڑے کا ذکر ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۵۴۶۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں بتایا گیا کہ تم سے پہلے لوگوں میں ایک شخص اپنے جوڑے میں اکڑتا تھا، پھر اس کے بارے میں وہی انجام بیان ہوا جو پچھلی روایات میں آیا۔ یہاں لفظ چادروں کے بجائے جوڑے کا آیا ہے، مگر اصل پیغام ایک ہی ہے: لباس کو تکبر کا ذریعہ نہ بنایا جائے۔ انسان کے کپڑے خوبصورت ہو سکتے ہیں، لیکن دل میں بڑائی آ جائے تو یہ خطرے کی بات ہے۔ جوڑے پر اترانے کی حدیث ہمیں سادہ انداز میں سمجھاتی ہے کہ ظاہری شان انسان کو دھوکے میں ڈال سکتی ہے۔ مومن کو نعمت ملے تو وہ اللہ کا شکر کرے، اپنے آپ پر نہ اترائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- لباس پر اترانا تکبر کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔
- پچھلی امتوں کے واقعات سے عبرت لینی چاہیے۔
- خوبصورت جوڑا پہن کر بھی عاجزی قائم رہنی چاہیے۔
- نعمت کو فخر نہیں، شکر کا سبب بنانا چاہیے۔
