صحیح مسلم حدیث ۵۶۲۴ - دجال کے فتنے سے اطمینان
دجال کی حدیث: پانی کی نہریں، روٹی کے پہاڑ اور اطمینان
صحیح مسلم : ۵۶۲۴
صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۶۲۴
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ أَبِي عُمَرَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قال : مَا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَدٌ عَنِ الدَّجَّالِ أَكْثَرَ مِمَّا سَأَلْتُهُ عَنْهُ ، فَقَالَ لِي : " أَيْ بُنَيَّ وَمَا يُنْصِبُكَ مِنْهُ إِنَّهُ لَنْ يَضُرَّكَ " ، قَالَ : قُلْتُ : إِنَّهُمْ يَزْعُمُونَ أَنَّ مَعَهُ أَنْهَارَ الْمَاءِ ، وَجِبَالَ الْخُبْزِ ، قَالَ : " هُوَ أَهْوَنُ عَلَى اللَّهِ مِنْ ذَلِكَ " .
مغیرہ بن شعبہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دجال کے بارے میں کسی نے اتنا نہیں پوچھا جتنا میں نے پوچھا۔ آخر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیٹا تو کیوں اس رنج میں ہے وہ تجھے رنج نہ دے گا۔“ میں نے عرض کیا۔ لوگ کہتے ہیں اس کے ساتھ پانی کی نہریں اور روٹی کے پہاڑ ہوں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”وہ اسی سبب سے اللہ تعالیٰ کے نزدیک ذلیل ہو گا۔“
صحیح مسلم حدیث ۵۶۲۴ کا خلاصہ
اس حدیث کا بنیادی موضوع دجال ہے۔ سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دجال کے بارے میں بہت سوال کیے۔ آخر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ اے بیٹے، تمہیں اس کی وجہ سے کیا رنج ہے، وہ تمہیں نقصان نہ دے گا۔ پھر انہوں نے عرض کیا کہ لوگ کہتے ہیں اس کے ساتھ پانی کی نہریں اور روٹی کے پہاڑ ہوں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ اللہ کے نزدیک اس سے بھی زیادہ ذلیل ہے۔ دجال کی حدیث میں یہاں اصل پیغام یہ ہے کہ دجال کے ظاہری سامان سے مرعوب نہیں ہونا چاہیے۔ حدیث میں پانی کی نہریں اور روٹی کے پہاڑ کا ذکر آیا، مگر ساتھ ہی یہ بھی بتایا گیا کہ اللہ کے نزدیک اس کی کوئی عزت نہیں۔ اس لیے اس روایت کو خوف پھیلانے کے بجائے اطمینان کے ساتھ سمجھنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دجال کے ظاہری سامان سے مرعوب نہیں ہونا چاہیے۔
- اللہ کے نزدیک دجال ذلیل ہے، یہ بات حدیث میں صاف آئی ہے۔
- دینی سوال کرنا جائز ہے، مگر بے جا پریشانی سے بچنا چاہیے۔
