صحیح مسلم حدیث ۵۶۲۵ - دجال کے ذکر کی روایت
دجال سے متعلق روایت: الفاظ کے فرق کو سمجھنا
صحیح مسلم : ۵۶۲۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۶۲۵
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحدثنا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ . ح وحدثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ كُلُّهُمْ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ أَحَدٍ مِنْهُمْ ، قَوْلُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْمُغِيرَةِ أَيْ بُنَيَّ إِلَّا فِي حَدِيثِ يَزِيد َ وَحْدَهُ .
ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا مگر اس میں یہ نہیں ہے کہ مغیرہ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹا کہا۔
صحیح مسلم حدیث ۵۶۲۵ کا خلاصہ
اس حدیث کا بنیادی موضوع دجال کی روایت ہے۔ اس روایت میں بتایا گیا ہے کہ پچھلی حدیث کا مضمون اسی سند کے ساتھ آیا ہے، مگر ایک خاص لفظ کا فرق بیان کیا گیا ہے۔ یہاں صاف کہا گیا کہ اس روایت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ کو اے بیٹے کہنا موجود نہیں، یہ لفظ صرف یزید کی روایت میں ہے۔ اس سے حدیث کے متن کو سمجھنے کا ایک اہم انداز سامنے آتا ہے کہ راوی الفاظ کے فرق کو بھی بیان کرتے تھے۔ دجال کی حدیث کے بارے میں اصل مضمون سابقہ روایت جیسا ہے، مگر یہاں توجہ اس بات پر ہے کہ کون سا لفظ کس روایت میں آیا۔ اس حدیث سے ہمیں یہ بات سمجھ آتی ہے کہ حدیث پڑھتے وقت الفاظ کی امانت بہت اہم ہے۔ جو لفظ روایت میں نہ ہو، اسے شامل نہیں کرنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حدیث کے الفاظ نقل کرتے وقت احتیاط ضروری ہے۔
- راوی الفاظ کے فرق کو بھی واضح کرتے تھے۔
- کسی روایت میں موجود نہ ہونے والا لفظ اپنی طرف سے شامل نہیں کرنا چاہیے۔
