صحیح مسلم حدیث ۵۶۲۶ - اجازت مانگنے کا ادب
اجازت مانگنے کی حدیث: تین بار اذن اور واپس لوٹنا
صحیح مسلم : ۵۶۲۶
صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۶۲۶
حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بُكَيْرٍ النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، حَدَّثَنَا وَاللَّهِ يَزِيدُ بْنُ خُصَيْفَةَ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، قال : سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، يَقُولُ : كُنْتُ جَالِسًا بِالْمَدِينَةِ فِي مَجْلِسِ الْأَنْصَارِ ، فَأَتَانَا أَبُو مُوسَى فَزِعًا أَوْ مَذْعُورًا ، قُلْنَا مَا شَأْنُكَ ، قَالَ : إِنَّ عُمَرَ أَرْسَلَ إِلَيَّ أَنْ آتِيَهُ فَأَتَيْتُ بَابَهُ ، فَسَلَّمْتُ ثَلَاثًا ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ فَرَجَعْتُ ، فَقَالَ : مَا مَنَعَكَ أَنْ تَأْتِيَنَا ؟ فَقُلْتُ : إِنِّي أَتَيْتُكَ فَسَلَّمْتُ عَلَى بَابِكَ ثَلَاثًا ، فَلَمْ يَرُدُّوا عَلَيَّ ، فَرَجَعْتُ ، وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا اسْتَأْذَنَ أَحَدُكُمْ ثَلَاثًا ، فَلَمْ يُؤْذَنْ لَهُ فَلْيَرْجِعْ " ، فَقَالَ عُمَرُ : أَقِمْ عَلَيْهِ الْبَيِّنَةَ وَإِلَّا أَوْجَعْتُكَ ، فَقَالَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ : لَا يَقُومُ مَعَهُ إِلَّا أَصْغَرُ الْقَوْمِ ، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ : قُلْتُ : أَنَا أَصْغَرُ الْقَوْمِ ، قَالَ : فَاذْهَبْ بِهِ .
ابو سعید خدری روایت:
میں مدینہ کی مسجد میں بیٹھا تھا انصار کی مجلس میں۔ اتنے میں ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ آئے ڈرے ہوئے۔ ہم نے پوچھا تم کو کیا ہوا؟ انہوں نے کہا: مجھ کو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بلوا بھیجا جب میں ان کے دروازے پر گیا تو تین بار سلام کیا۔ انہوں نے جواب نہ دیا۔ میں لوٹ آیا۔ پھر انہوں نے کہا: تم میرے گھر میرے پاس کیوں نہیں آئے۔ میں نے کہا: میں آپ کے پاس گیا تھا اور دروازے پر تین بار سلام کیا۔ آپ نے جواب نہ دیا آخر لوٹ آیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”جب تم میں سے کوئی تین بار اذن چاہے، پھر کوئی اذن نہ ملے (اندر آنے کا) تو لوٹ جائے۔“سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اس حدیث پر گواہ لاؤ ورنہ میں تجھے سزا دوں گا۔ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے کہا: سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کے ساتھ وہ شخص جائے جو ہم سب لوگوں میں چھوٹا ہو سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ نے کہا: میں سب سے چھوٹا ہوں سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے کہا: اچھا تم جاؤ ان کے ساتھ۔
صحیح مسلم حدیث ۵۶۲۶ کا خلاصہ
اس حدیث کا بنیادی موضوع اجازت مانگنا ہے۔ سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور دروازے پر تین بار سلام کیا۔ جواب نہ ملا تو وہ واپس آگئے۔ بعد میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ تم کیوں نہیں آئے؟ ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ جب تم میں سے کوئی تین بار اجازت مانگے اور اجازت نہ ملے تو واپس لوٹ جائے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس حدیث پر گواہ طلب کیا، پھر سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ گواہی کے لیے گئے۔ اجازت مانگنے کی حدیث کا اصل پیغام بہت صاف ہے: کسی کے گھر یا جگہ میں داخل ہونے کے لیے اذن ضروری ہے۔ تین بار کے بعد اصرار نہیں کرنا چاہیے۔ یہ ادب لوگوں کی مصروفیت اور ذاتی جگہ کا خیال رکھتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دروازے پر تین بار اجازت مانگنا کافی ہے۔
- اجازت نہ ملے تو واپس لوٹ جانا چاہیے۔
- حدیث بیان کرتے وقت گواہی اور تحقیق کا اہتمام کیا جا سکتا ہے۔
