صحیح مسلم حدیث ۵۶۲۷ - حدیث پر گواہی
اجازت مانگنے کی حدیث پر گواہی: ابو سعید رضی اللہ عنہ کا بیان
صحیح مسلم : ۵۶۲۷
صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۶۲۷
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، قالا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَزَادَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ فِي حَدِيثِهِ ، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ : فَقُمْتُ مَعَهُ فَذَهَبْتُ إِلَى عُمَرَ فَشَهِدْتُ .
ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔ اتنا زیادہ ہے کہ ابوسعید نے کہا: میں ابوموسیٰ کے ساتھ کھڑا ہوا اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور گواہی دی۔
صحیح مسلم حدیث ۵۶۲۷ کا خلاصہ
اس حدیث کا بنیادی موضوع حدیث پر گواہی ہے۔ اس روایت میں پچھلے واقعے کی تائید آتی ہے اور یہ اضافہ بیان ہوا ہے کہ سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ، ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کے ساتھ کھڑے ہوئے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور گواہی دی۔ اجازت مانگنے کی حدیث میں یہ حصہ بہت اہم ہے کیونکہ یہاں صرف حکم نہیں، بلکہ اس حکم کی تصدیق کا واقعہ بھی سامنے آتا ہے۔ تین بار اجازت مانگنے کا ادب پہلے بیان ہو چکا تھا، اور اس روایت میں بتایا گیا کہ ایک صحابی نے دوسرے صحابی کی بات کی گواہی دی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دین کی بات میں سنجیدگی ہونی چاہیے۔ جب کوئی حدیث بیان کرے تو ضرورت پڑنے پر اس کی تصدیق بھی کی جا سکتی ہے۔ یہ انداز علم، امانت اور احتیاط کا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حدیث کی بات میں تصدیق اور گواہی کا اہتمام ہو سکتا ہے۔
- صحابہ کرام حدیث کے معاملے میں سنجیدہ تھے۔
- اجازت نہ ملنے پر واپس لوٹنا نبوی حکم کے مطابق ہے۔
