صحیح مسلم حدیث ۵۶۳۱ - تحقیق اور اجازت

اجازت مانگنے کی حدیث: تحقیق، گواہی اور تین بار اذن

صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۶۳۱

وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنَا عَطَاءٌ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، أَنَّ أَبَا مُوسَى اسْتَأْذَنَ عَلَى عُمَرَ ثَلَاثًا ، فَكَأَنَّهُ وَجَدَهُ مَشْغُولًا فَرَجَعَ ، فَقَالَ عُمَرُ : أَلَمْ تَسْمَعْ صَوْتَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ ائْذَنُوا لَهُ ، فَدُعِيَ لَهُ ، فَقَالَ : مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا صَنَعْتَ ؟ قَالَ : إِنَّا كُنَّا نُؤْمَرُ بِهَذَا ، قَالَ : لَتُقِيمَنَّ عَلَى هَذَا بَيِّنَةً أَوْ لَأَفْعَلَنَّ فَخَرَجَ فَانْطَلَقَ إِلَى مَجْلِسٍ مِنْ الْأَنْصَارِ ، فَقَالُوا : لَا يَشْهَدُ لَكَ عَلَى هَذَا إِلَّا أَصْغَرُنَا ، فَقَامَ أَبُو سَعِيدٍ ، فَقَالَ : كُنَّا نُؤْمَرُ بِهَذَا ، فَقَالَ عُمَرُ : خَفِيَ عَلَيَّ هَذَا مِنْ أَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلْهَانِي عَنْهُ الصَّفْقُ بِالْأَسْوَاقِ " .

عبید بن عمیر روایت:

سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ تین بار اجازت مانگی۔ انہوں نے سمجھا کہ وہ کسی کام میں مصروف ہیں وہ لوٹ گئے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے (اپنے لوگوں سے) کہا: ہم نے عبداللہ بن قیس (یہ نام ہے ابوموسیٰ کا) کی آواز سنی تھی تو بلاؤ ان کو پھر وہ بلائے گئے۔سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تم نے ایسا کیوں کیا؟ انہوں نے کہا: ہم کو ایسا ہی حکم ہوا تھا (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا) سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تم اس امر پر گواہ لاؤ ورنہ میں ایسا کروں گا۔ (یعنی سزا دوں گا)، ابوموسیٰ نکلے اور انصار کی مجلس پر آئے، انہوں نے کہا: تمہارے ساتھ ہم میں سے وہی گواہی دے گا جو ہم میں کمسن ہے۔ پھر ابوسعید رضی اللہ عنہ اٹھے اور انہوں نے کہا: ہم کو ایسا ہی حکم ہوا تھا۔سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ حکم مجھ پر نہیں کھلا۔ اور اس کی وجہ یہی ہے کہ بازاروں میں معاملہ کرنا (یعنی میں تجارت وغیرہ دنیا کے کاموں میں مصروف رہا اور یہ حدیث نہ سن سکا۔ جب سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو سب حدیثیں معلوم نہ ہوں تو اور کسی مجتہد یا عالم پر حدیث پوشیدہ رہنا کیا بعید ہے)۔

صحیح مسلم حدیث ۵۶۳۱ کا خلاصہ

اس حدیث کا بنیادی موضوع تحقیق اور اجازت ہے۔ سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے تین بار اجازت مانگی۔ انہیں لگا کہ عمر رضی اللہ عنہ مصروف ہیں، اس لیے وہ واپس آگئے۔ جب عمر رضی اللہ عنہ نے وجہ پوچھی تو ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ہمیں اسی کا حکم دیا گیا تھا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے گواہ طلب کیا۔ پھر ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ انصار کی مجلس میں گئے، جہاں سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ نے گواہی دی کہ ہمیں اسی کا حکم دیا گیا تھا۔ اس حدیث میں اجازت مانگنے کا ادب بھی ہے اور حدیث کی تحقیق کا پہلو بھی۔ آخر میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ حکم مجھ پر پوشیدہ رہا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر شخص ہر بات نہ جانتا ہو، پھر بھی تحقیق سے بات واضح ہو سکتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • دینی بات میں تحقیق کرنا اچھا اور محتاط انداز ہے۔
  • کسی عالم یا بڑے شخص سے بھی کوئی حدیث پوشیدہ رہ سکتی ہے۔
  • تین بار اجازت کے بعد واپس آنا نبوی حکم ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں