صحیح مسلم حدیث ۵۶۳۰ - اجازت کی تائیدی روایت
اجازت تین بار ہے: تائیدی روایت کا آسان مفہوم
صحیح مسلم : ۵۶۳۰
صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۶۳۰
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قالا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي مَسْلَمَةَ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ . ح وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ خِرَاشٍ ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ الْجُرَيْرِيِّ ، وَسَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ كلاهما ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، قَالَا : سَمِعْنَاهُ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ بِمَعْنَى حَدِيثِ بِشْرِ بْنِ مُفَضَّلٍ ، عَنْ أَبِي مَسْلَمَةَ .
ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔
صحیح مسلم حدیث ۵۶۳۰ کا خلاصہ
اس حدیث کا بنیادی موضوع اجازت کی تائیدی روایت ہے۔ اس میں پچھلی روایت کے معنی کو بیان کیا گیا ہے کہ سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دروازے پر اجازت مانگی، تین بار کے بعد واپس آگئے، پھر گواہی کا معاملہ پیش آیا۔ چونکہ اس روایت میں ترجمہ وہی بتایا گیا ہے جو اوپر گزرا، اس لیے اس کا اصل پیغام بھی وہی ہے: اجازت مانگنے کی حد تین بار ہے۔ اجازت نہ ملے تو واپس آنا چاہیے۔ اس سے گھر کے ادب، ذاتی جگہ کے احترام اور غیر ضروری اصرار سے بچنے کا سبق ملتا ہے۔ اجازت مانگنے کی حدیث صرف ایک رسمی بات نہیں، بلکہ روزمرہ زندگی کے لیے واضح رہنمائی ہے۔ کسی کے دروازے، کمرے یا نجی جگہ پر آنے سے پہلے اذن ضروری ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اجازت مانگنے کے حکم کی کئی روایتوں سے تائید ہوتی ہے۔
- تین بار کے بعد واپس آنا ادب کے مطابق ہے۔
- کسی کی ذاتی جگہ کا خیال رکھنا ضروری ہے۔
