صحیح مسلم حدیث ۵۶۲۹ - اجازت اور بھائی چارہ
اجازت مانگنے کی حدیث اور مسلمان بھائی کی مدد
صحیح مسلم : ۵۶۲۹
صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۶۲۹
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ مُفَضَّلٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، أَنَّ أَبَا مُوسَى أَتَى بَابَ عُمَرَ ، فَاسْتَأْذَنَ ، فَقَالَ عُمَرُ : وَاحِدَةٌ ثُمَّ اسْتَأْذَنَ الثَّانِيَةَ ، فَقَالَ عُمَرُ : ثِنْتَانِ ثُمَّ اسْتَأْذَنَ الثَّالِثَةَ ، فَقَالَ عُمَرُ : ثَلَاثٌ ثُمَّ انْصَرَفَ ، فَأَتْبَعَهُ فَرَدَّهُ ، فَقَالَ : إِنْ كَانَ هَذَا شَيْئًا حَفِظْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهَا وَإِلَّا فَلَأَجْعَلَنَّكَ عِظَةً ، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ : فَأَتَانَا ، فَقَالَ : أَلَمْ تَعْلَمُوا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الِاسْتِئْذَانُ ثَلَاثٌ " ، قَالَ : فَجَعَلُوا يَضْحَكُونَ ، قَالَ : فَقُلْتُ : أَتَاكُمْ أَخُوكُمُ الْمُسْلِمُ قَدْ أُفْزِعَ تَضْحَكُونَ انْطَلِقْ فَأَنَا شَرِيكُكَ فِي هَذِهِ الْعُقُوبَةِ ، فَأَتَاهُ ، فَقَالَ : هَذَا أَبُو سَعِيدٍ .
ابوسعید روایت:
ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دروازے پر آئے اور اجازت مانگی۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ ایک بار ہوئی، پھر انہوں نے اجازت مانگی۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ دو بار ہوئی، پھر اجازت مانگی تیسری بار۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ تین بار ہوئی۔ بعد اس کے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ لوٹے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کے پیچھے کسی کو بھیجا اور واپس لایا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے ابوموسیٰ! اگر تم نے یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی حدیث کے موافق کیا ہے تو گواہ لا ورنہ میں تجھ کو ایسی سزا دوں گا جس سے اوروں کو نصیحت ہو۔یہ سن کو ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ ہمارے پاس آئے اور کہنے لگے: کیا تم کو یہ معلوم نہیں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”اجازت مانگنا تین بار ہے۔“ لوگ ہنسنے لگے، میں نے کہا: تمہارے پاس مسلمان بھائی ڈرا ہوا آیا ہے اور تم ہنستے ہو۔ میں نے کہا: اے ابوموسیٰ! چل میں تیرا شریک ہوں اس تکلیف میں۔ پھر وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا کہ یہ ابوسعید رضی اللہ عنہ گواہ موجود ہیں۔
صحیح مسلم حدیث ۵۶۲۹ کا خلاصہ
اس حدیث کا بنیادی موضوع اجازت اور بھائی چارہ ہے۔ سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دروازے پر آئے اور تین بار اجازت مانگی۔ ہر بار شمار ہوا، پھر وہ واپس ہوگئے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں واپس بلایا اور کہا کہ اگر یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کے مطابق ہے تو گواہ لاؤ۔ ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ صحابہ کے پاس آئے اور بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اجازت تین بار ہے۔ کچھ لوگ ہنسنے لگے، مگر سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تمہارے پاس مسلمان بھائی گھبرایا ہوا آیا ہے اور تم ہنستے ہو۔ پھر وہ ان کے ساتھ گئے۔ اس حدیث میں اجازت مانگنے کا حکم بھی ہے اور مسلمان بھائی کی مدد کا خوبصورت پہلو بھی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- تین بار اجازت کے بعد واپس لوٹنا حدیث کے مطابق ہے۔
- پریشان مسلمان بھائی کی بات سنجیدگی سے سننی چاہیے۔
- حق بات میں دوسرے کی مدد کرنا اچھا عمل ہے۔
