حدیث ۵۶۲۸
صحیح مسلم : ۵۶۲۸
صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۶۲۸
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ ، أَنَّ بُسْرَ بْنَ سَعِيدٍ ، حَدَّثَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، يَقُولُ : كُنَّا فِي مَجْلِسٍ عِنْدَ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، فَأَتَى أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ مُغْضَبًا ، حَتَّى وَقَفَ ، فَقَالَ : أَنْشُدُكُمُ اللَّهَ ، هَلْ سَمِعَ أَحَدٌ مِنْكُمْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " الِاسْتِئْذَانُ ثَلَاثٌ فَإِنْ أُذِنَ لَكَ وَإِلَّا فَارْجِعْ ؟ ، قَالَ أُبَيٌّ : وَمَا ذَاكَ ، قَالَ : اسْتَأْذَنْتُ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَمْسِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، فَلَمْ يُؤْذَنْ لِي ، فَرَجَعْتُ ثُمَّ جِئْتُهُ الْيَوْمَ ، فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ ، فَأَخْبَرْتُهُ أَنِّي جِئْتُ أَمْسِ فَسَلَّمْتُ ثَلَاثًا ثُمَّ انْصَرَفْتُ ، قَالَ : قَدْ سَمِعْنَاكَ وَنَحْنُ حِينَئِذٍ عَلَى شُغْلٍ ، فَلَوْ مَا اسْتَأْذَنْتَ حَتَّى يُؤْذَنَ لَكَ ، قَالَ : اسْتَأْذَنْتُ كَمَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " فَوَاللَّهِ لَأُوجِعَنَّ ظَهْرَكَ وَبَطْنَكَ أَوْ لَتَأْتِيَنَّ بِمَنْ يَشْهَدُ لَكَ عَلَى هَذَا " ، فَقَالَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ : فَوَاللَّهِ لَا يَقُومُ مَعَكَ إِلَّا أَحْدَثُنَا سِنًّا قُمْ يَا أَبَا سَعِيدٍ ، فَقُمْتُ حَتَّى أَتَيْتُ عُمَرَ ، فَقُلْتُ قَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ هَذَا .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، ہم ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی مجلس میں بیٹھے تھے اتنے میں ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ آئے غصہ میں اور کھڑے ہو کر کہنے لگے میں تم کو قسم دیتا ہوں اللہ کی تم میں سے کسی نے سنا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”تین بار اجازت مانگنا ہے پھر اگر اجازت ملے تو بہتر ورنہ لوٹ جا۔“ سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے کہا: تم کیوں پوچھتے ہو اس کو؟ انہوں نے کہا: میں نے کل سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے گھر پر تین بار اجازت مانگی مجھ کو اجازت نہ ملی میں لوٹ آیا۔ آج پھر میں ان کے پاس گیا اور میں نے کہا: کل میں آپ کے پاس آیا تھا اور تین بار سلام کیا تھا پھر میں لوٹ گیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے سنا تھا اس وقت ہم کام میں تھے تم نے پھر اجازت کیوں نہیں مانگی یہاں تک کہ تم کو اجازت ملتی؟ میں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس طرح فرمایا ہے اس طرح میں نے اجازت مانگی۔ انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! میں دکھ دوں گا تیرے پیٹ اور پیٹھ کو، نہیں تو تو گواہ لا اس حدیث پر۔ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے کہا: تو اللہ کی قسم! تمہارے ساتھ وہ جائے جو ہم سب میں کمسن ہو۔ اٹھ اے ابوسعید! پھر میں اٹھا اور سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث سنی ہے۔
