صحیح مسلم حدیث ۵۶۳۹ - نظر کی حفاظت

نظر کی حفاظت کی حدیث: اجازت کیوں رکھی گئی؟

صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۶۳۹

وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ الْأَنْصَارِيَّ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَجُلًا اطَّلَعَ مِنْ جُحْرٍ فِي بَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَمَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِدْرًى يُرَجِّلُ بِهِ رَأْسَهُ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْ أَعْلَمُ أَنَّكَ تَنْظُرُ طَعَنْتُ بِهِ فِي عَيْنِكَ ، إِنَّمَا جَعَلَ اللَّهُ الْإِذْنَ مِنْ أَجْلِ الْبَصَرِ " .

‏‏‏‏ ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا اس میں یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے کنگھی کرتے تھے اپنے سر میں۔

صحیح مسلم حدیث ۵۶۳۹ کا خلاصہ

اس حدیث کا بنیادی موضوع نظر کی حفاظت ہے۔ اس روایت میں وہی واقعہ بیان ہوا ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے کے سوراخ سے جھانکا۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک چیز تھی جس سے آپ اپنے سر میں کنگھی کر رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر مجھے معلوم ہوتا کہ تم دیکھ رہے ہو تو میں اس سے تمہاری آنکھ کو کونچتا۔ پھر فرمایا کہ اللہ نے اجازت اسی لیے رکھی ہے کہ نظر محفوظ رہے۔ جھانکنے سے منع کی حدیث میں یہی اصل بات ہے کہ کسی کے گھر یا ذاتی جگہ میں بغیر اجازت دیکھنا درست نہیں۔ اجازت کا مقصد صرف داخل ہونے کی اجازت نہیں، بلکہ اندر والوں کی پردہ داری اور نجی حالت کی حفاظت بھی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • اجازت نظر کی حفاظت کے لیے رکھی گئی ہے۔
  • دروازے کے سوراخ سے جھانکنا سخت ناپسندیدہ عمل ہے۔
  • دوسروں کی ذاتی جگہ کا احترام کرنا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں