صحیح مسلم حدیث ۵۶۴۰ - اجازت کا مقصد
اجازت کا مقصد: نظر بچانا اور جھانکنے سے رکنا
صحیح مسلم : ۵۶۴۰
صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۶۴۰
وحدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ . ح وحدثنا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ كِلَاهُمَا ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ حَدِيثِ اللَّيْثِ وَيُونُسَ .
ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔
صحیح مسلم حدیث ۵۶۴۰ کا خلاصہ
اس حدیث کا بنیادی موضوع اجازت کا مقصد ہے۔ اس روایت میں پچھلی روایت کے معنی کی تائید ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے کے سوراخ سے جھانکا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر سخت تنبیہ فرمائی۔ اصل جملہ یہ ہے کہ اجازت نظر کی وجہ سے رکھی گئی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی کے گھر یا کمرے میں داخل ہونے سے پہلے اذن اس لیے ضروری ہے کہ اندر والوں کی حالت پر اچانک نظر نہ پڑے۔ جھانکنے سے منع کی حدیث ہمیں روزمرہ زندگی کا بہت اہم ادب سکھاتی ہے۔ دروازہ، کھڑکی، سوراخ یا کوئی بھی راستہ ہو، دوسرے کی ذاتی جگہ میں دیکھنے سے بچنا چاہیے۔ یہ روایت ہمیں بتاتی ہے کہ اجازت مانگنا صرف رسمی سلام نہیں بلکہ نظر اور پردہ کا خیال ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اجازت کا اصل مقصد نظر کو غلط جگہ پڑنے سے بچانا ہے۔
- کسی کے گھر میں جھانکنا اسلامی ادب کے خلاف ہے۔
- داخل ہونے سے پہلے اجازت لینا دوسروں کے احترام کا حصہ ہے۔
