صحیح مسلم حدیث ۵۸۵ - قبرستان میں سلام کہنے کی دعا
قبرستان میں سلام: موت کی یاد اور مؤمنوں سے نسبت
صحیح مسلم : ۵۸۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۸۵
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ . ح وحَدَّثَنِي إِسْحَاق بْنُ مُوسَى الأَنْصَارِيُّ ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ جَمِيعًا ، عَنْ العَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، خَرَجَ إِلَى الْمَقْبُرَةِ ، فَقَالَ : السَّلَامُ عَلَيْكُمْ ، دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ ، وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِكُمْ لَاحِقُونَ " ، بِمِثْلِ حَدِيثِ إِسْمَاعِيل بْنِ جَعْفَرٍ ، غَيْرَ أَنَّ حَدِيثَ مَالِكٍ : فَلَيُذَادَنَّ رِجَالٌ ، عَنْ حَوْضِي .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے قبرستان کی جانب تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سلامتی ہو تم پر اے مؤمنوں کی قوم اور ہم بھی آپ لوگوں سے ملنے والے ہیں۔“
صحیح مسلم حدیث ۵۸۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قبرستان جانا اور وہاں مؤمنوں کو سلام کہنا بیان ہوا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سلامتی ہو تم پر اے مؤمنوں کی قوم، اور ہم بھی تم سے ملنے والے ہیں۔ یہ الفاظ بہت سادہ ہیں مگر انسان کو اپنی اصل منزل یاد دلاتے ہیں۔ قبرستان کی دعا صرف الفاظ نہیں، بلکہ اس میں موت کی یاد، مؤمنوں کے لیے سلامتی کی دعا، اور اپنی واپسی کا احساس شامل ہے۔ اس حدیث سے یہ بات بھی سمجھ آتی ہے کہ مسلمان اپنے فوت شدہ مؤمن بھائیوں کو بھولتا نہیں۔ وہ ان کے لیے سلامتی کے الفاظ کہتا ہے اور اپنے دل میں یہ بات تازہ رکھتا ہے کہ ایک دن اسے بھی اسی سفر پر جانا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قبرستان جاتے وقت مؤمنوں کو سلام کہنا سنت سے ثابت ہے۔
- موت کو یاد رکھنا دل کو نرم کرتا ہے۔
- فوت شدہ مؤمنوں کے لیے سلامتی کے الفاظ کہنا اچھا عمل ہے۔
- انسان کو یاد رکھنا چاہیے کہ وہ بھی آخرکار اس دنیا سے جائے گا۔
