صحیح مسلم حدیث ۵۸۴ - نبی صلى الله عليه وسلم کے بھائی اور وضو کی پہچان

نبی صلى الله عليه وسلم کے بھائی کون ہیں؟ وضو کی روشن نشانی

صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۸۴

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَسُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ جميعا ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ جَعْفَرٍ ، قَالَ ابْنُ أَيُّوبَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ، أَخْبَرَنِي الْعَلَاءُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَتَى الْمَقْبُرَةَ ، فَقَالَ : السَّلَامُ عَلَيْكُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ ، وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِكُمْ لَاحِقُونَ ، وَدِدْتُ أَنَّا قَدْ رَأَيْنَا إِخْوَانَنَا ، قَالُوا : أَوَلَسْنَا إِخْوَانَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : أَنْتُمْ أَصْحَابِي ، وَإِخْوَانُنَا الَّذِينَ لَمْ يَأْتُوا بَعْدُ ، فَقَالُوا : كَيْفَ تَعْرِفُ مَنْ لَمْ يَأْتِ بَعْدُ مِنْ أُمَّتِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ فَقَالَ : أَرَأَيْتَ لَوْ أَنَّ رَجُلًا لَهُ خَيْلٌ غُرٌّ ، مُحَجَّلَةٌ بَيْنَ ظَهْرَيْ خَيْلٍ دُهْمٍ بُهْمٍ ، أَلَا يَعْرِفُ خَيْلَهُ ؟ قَالُوا : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : فَإِنَّهُمْ يَأْتُونَ غُرًّا ، مُحَجَّلِينَ مِنَ الْوُضُوءِ ، وَأَنَا فَرَطُهُمْ عَلَى الْحَوْضِ ، أَلَا لَيُذَادَنَّ رِجَالٌ عَنْ حَوْضِي ، كَمَا يُذَادُ الْبَعِيرُ الضَّالُّ أُنَادِيهِمْ ، أَلَا هَلُمَّ ؟ فَيُقَالُ : إِنَّهُمْ قَدْ بَدَّلُوا بَعْدَكَ ، فَأَقُولُ : سُحْقًا ، سُحْقًا " .

سیدنا ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبرستان سے تشریف لائے تو فرمایا: ”سلام ہے تم پر یہ گھر ہے مسلمانوں کا اور ہم اللہ چاہے تو تم سے ملنے والے ہیں۔ میری آرزو ہے کہ ہم اپنے بھائیوں کو دیکھیں۔“ (اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نیک بات کی آرزو کرنا درست ہے جیسے علما اور فضلا سے ملنے کی) صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا: یا رسول اللہ! کیا ہم آپ کے بھائی نہیں ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم تو میرے اصحاب ہو اور بھائی ہمارے وہ لوگ ہیں جو ابھی دنیا میں نہیں آئے۔“صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا: یا رسول اللہ! آپ کیسے پہچانیں گے اپنی امت کے ان لوگوں کو جن کو آپ نے نہیں دیکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بھلا تم دیکھو اگر ایک شخص کے سفید پیشانی سفید ہاتھ پاؤں کے گھوڑے سیاہ مشکی گھوڑوں میں مل جائیں تو وہ اپنے گھوڑے نہیں پہچانے گا۔“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا: بے شک وہ تو پہچان لےگا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو میری امت کے لوگ سفید منہ اور سفید ہاتھ پاؤں رکھتے ہوں گے قیامت کے دن وضو سے اور میں ان کا پیش خیمہ ہوں گا حوض کوثر پر۔ خبردار رہو بعض لوگ میرے حوض پر سے ہٹائے جائیں گے، جیسے بھٹکا ہوا اونٹ ہنکایا جاتا ہے۔ میں ان کو پکاروں گا آؤ آؤ۔ اس وقت کہا جائے گا: ان لوگوں نے اپنے تئیں بدل دیا تھا۔ (اور کافر ہو گئے تھے یا ان کی حالت بدل گئی تھی بدعت اور ظلم میں گرفتار ہو گئے تھے) تب میں کہوں گا: جاؤ دور ہو، دور ہو۔“

صحیح مسلم حدیث ۵۸۴ کا خلاصہ

اس حدیث میں کئی اہم باتیں دیے گئے متن کے اندر ہی صاف طور پر آتی ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبرستان تشریف لے گئے، وہاں مؤمنوں کو سلام کہا اور فرمایا کہ ہم بھی ان سے ملنے والے ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بھائیوں کو دیکھنے کی آرزو بیان فرمائی۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا کہ کیا ہم آپ کے بھائی نہیں؟ آپ نے فرمایا کہ تم میرے اصحاب ہو، اور ہمارے بھائی وہ ہیں جو ابھی دنیا میں نہیں آئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ آپ اپنی امت کو وضو کے اثر سے پہچانیں گے، جیسے آدمی اپنے روشن نشان والے گھوڑے پہچان لیتا ہے۔ آخر میں حوض سے ہٹائے جانے والے لوگوں کا بھی ذکر ہے، جن کے بارے میں کہا جائے گا کہ انہوں نے بعد میں اپنے آپ کو بدل دیا تھا۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • قبرستان جاتے وقت مؤمنوں کو سلام کہنا حدیث سے ثابت ہے۔
  • نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بعد میں آنے والی امت کے لیے محبت کا اظہار فرمایا۔
  • وضو قیامت کے دن امت کی پہچان بنے گا۔
  • دین کے راستے سے بدل جانے پر سخت تنبیہ آئی ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں