صحیح مسلم حدیث ۵۸۷ - گناہ مٹانے والے اعمال
گناہ مٹانے والے اعمال: وضو، مسجد اور نماز کا انتظار
صحیح مسلم : ۵۸۷
صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۸۷
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، جَمِيعًا ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ جَعْفَرٍ ، قَالَ ابْنُ أَيُّوبَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ، أَخْبَرَنِي الْعَلَاءُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى مَا يَمْحُو اللَّهُ بِهِ الْخَطَايَا ، وَيَرْفَعُ بِهِ الدَّرَجَاتِ ؟ قَالُوا : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : إِسْبَاغُ الْوُضُوءِ عَلَى الْمَكَارِهِ ، وَكَثْرَةُ الْخُطَا إِلَى الْمَسَاجِدِ ، وَانْتِظَارُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصَّلَاةِ ، فَذَلِكُمُ الرِّبَاطُ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تم کو نہ بتاؤں وہ باتیں جن سے گناہ مٹ جائیں (یعنی معاف ہو جائیں یا لکھنے والوں کے دفتر مٹ جائیں) اور درجے بلند ہوں۔“ (جنت میں) لوگوں نے کہا: کیوں نہیں یا رسول اللہ! بتلائیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پورا کرنا وضو کا سختی اور تکلیف میں (جیسے جاڑے کی شدت میں یا بیماری میں) اور بہت ہونا قدموں کا مسجد تک۔ (اس طرح کہ مسجد گھر سے دور ہو اور بار بار جائے) اور انتظار کرنا دوسری نماز کا ایک نماز کے بعد یہی «رباط» ہے۔“ (یعنی نفس کا روکنا عبادات کیلئے یا وہ «رباط» ہے جو جہاد میں ہوتا ہے جس کا ذکر قرآن شریف میں ہے «ورابطوا»)۔
صحیح مسلم حدیث ۵۸۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو تین ایسے اعمال بتائے جن کے ذریعے اللہ تعالیٰ خطائیں مٹاتا ہے اور درجات بلند فرماتا ہے۔ پہلا عمل سختی اور تکلیف کے وقت بھی وضو کو پورا کرنا ہے۔ دوسرا عمل مسجد تک زیادہ قدم چل کر جانا ہے۔ تیسرا عمل ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہی رباط ہے۔ اس حدیث میں عبادت کے اندر صبر، پابندی اور دل کی تیاری کا سبق ملتا ہے۔ مشکل وقت میں وضو کرنا، مسجد جانا اور نماز کے انتظار میں رہنا ایسے کام ہیں جو بندے کو اللہ کی طرف متوجہ رکھتے ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سختی میں بھی وضو پورا کرنا خطاؤں کے مٹنے کا سبب بتایا گیا ہے۔
- مسجد کی طرف چل کر جانا اجر کا کام ہے۔
- ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار عبادت سے تعلق مضبوط کرتا ہے۔
- عبادت میں پابندی اور صبر مؤمن کے درجات بلند کرنے کا سبب بن سکتے ہیں۔
