صحیح مسلم حدیث ۵۹۴ - رات کو اٹھنے پر مسواک
رات کے قیام میں مسواک: پاکیزگی کا نبوی معمول
صحیح مسلم : ۵۹۴
صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۹۴
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ كِلَاهُمَا ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ ، بِمِثْلِهِ ، وَلَمْ يَقُولُوا : لِيَتَهَجَّد .
خذیفہ روایت:
سیدنا خذیفہ رضی اللہ عنہ سے مذکورہ روایت کی طرح ہی مروی ہے الفاظ کی کچھ تبدیلی کے ساتھ۔
صحیح مسلم حدیث ۵۹۴ کا خلاصہ
یہ روایت سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مذکورہ مضمون ہی کو الفاظ کے کچھ فرق کے ساتھ بیان کرتی ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کو اٹھتے تو مسواک کرتے، البتہ اس روایت کے الفاظ میں تہجد کا لفظ نہیں آیا۔ اس فرق کو سمجھتے ہوئے اصل بات یہی ہے کہ رات کو اٹھنے کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم منہ کی صفائی کا اہتمام فرماتے تھے۔ اس حدیث سے مسواک کی اہمیت مزید واضح ہوتی ہے، خاص طور پر نیند کے بعد۔ رات کا قیام ہو یا عبادت کے لیے کھڑا ہونا، منہ کو صاف کرنا ایک پاکیزہ عادت ہے۔ روایت ہمیں سکھاتی ہے کہ چھوٹے اعمال بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں مستقل جگہ رکھتے تھے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو اٹھتے تو مسواک کرتے تھے۔
- اس روایت میں تہجد کا لفظ نہیں، مگر رات کے اٹھنے کا ذکر ہے۔
- نیند کے بعد منہ کی صفائی کا اہتمام اچھا عمل ہے۔
- مسواک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے معمولات میں شامل تھی۔
