صحیح مسلم حدیث ۵۹۶ - رات کی نماز، آیات اور مسواک
رات کی عبادت کا نبوی طریقہ: آیات، مسواک اور وضو
صحیح مسلم : ۵۹۶
صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۹۶
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُتَوَكِّلِ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ حَدَّثَهُ ، " أَنَّهُ بَاتَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ ، فَقَامَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ ، فَخَرَجَ فَنَظَرَ فِي السَّمَاء ، ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الآيَةَ فِي آلِ عِمْرَانَ إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ وَاخْتِلافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ حَتَّى بَلَغَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ سورة آل عمران آية 190 - 191 ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى الْبَيْتِ فَتَسَوَّكَ وَتَوَضَّأَ ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى ، ثُمَّ اضْطَجَعَ ، ثُمَّ قَامَ فَخَرَجَ فَنَظَرَ إِلَى السَّمَاءِ ، فَتَلَا هَذِهِ الآيَةَ ، ثُمَّ رَجَعَ فَتَسَوَّكَ ، فَتَوَضَّأَ ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى " .
ابن عباس روایت:
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس رہے، تو پچھلی رات کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور باہر نکلے آسمان کی طرف دیکھا، پھر یہ آیت پڑھی جو سورۂ آل عمران میں ہے «إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ» سے «فَقِنَا عَذَابَ النَّار» تک پھر لوٹ کر اندر آئے اور مسواک کی اور وضو کیا اور کھڑے ہو کر نماز پڑھی، پھر لیٹ رہے، پھر اٹھے اور باہر نکلے اور آسمان کی طرف دیکھا اور یہی آیت پڑھی، پھر لوٹ کر اندر آئے اور مسواک اور وضو کیا، پھر کھڑے ہو کر نماز پڑھی۔
صحیح مسلم حدیث ۵۹۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما ایک رات کا مشاہدہ بیان کرتے ہیں۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس رہے۔ پچھلی رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے، باہر نکلے، آسمان کی طرف دیکھا، پھر سورہ آل عمران کی آیات “إن في خلق السماوات والأرض” سے “فقنا عذاب النار” تک پڑھیں۔ پھر گھر واپس آئے، مسواک کی، وضو کیا اور نماز پڑھی۔ اس کے بعد لیٹے، پھر دوبارہ اٹھے، باہر گئے، آسمان دیکھا، وہی آیات پڑھیں، پھر واپس آ کر مسواک، وضو اور نماز ادا کی۔ اس حدیث میں رات کی عبادت، قرآن کی تلاوت، آسمان پر غور، مسواک اور وضو سب ایک ترتیب میں آتے ہیں۔ ہمیں اسی بیان تک رہتے ہوئے یہ سمجھنا چاہیے کہ عبادت سے پہلے صفائی اور قرآن کی تلاوت دونوں اہم ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو اٹھ کر آسمان کی طرف دیکھتے اور آیات پڑھتے تھے۔
- رات کی نماز سے پہلے مسواک اور وضو کا ذکر آیا ہے۔
- عبادت سے پہلے قرآن کی تلاوت اور صفائی دونوں کا اہتمام ہوا۔
- حدیث میں عمل کی ترتیب واضح طور پر بیان کی گئی ہے۔
