صحیح مسلم حدیث ۵۹۵ - قیام اللیل میں مسواک کا اہتمام
قیام اللیل سے پہلے مسواک کی سنت
صحیح مسلم : ۵۹۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۹۵
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، وَحُصَيْنٌ ، وَالأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ ، يَشُوصُ فَاهُ بِالسِّوَاكِ " .
خذیفہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی رات کو قیام کرتے تو منہ مسواک کے ساتھ صاف کرتے۔
صحیح مسلم حدیث ۵۹۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی رات کو قیام کرتے تو مسواک کے ساتھ منہ صاف کرتے۔ یہاں لفظ “جب بھی” عمل کی پابندی کو سمجھاتا ہے، مگر ہم اسے اسی روایت کے دائرے میں رکھتے ہیں۔ قیام اللیل کے وقت انسان نیند سے اٹھتا ہے، اس لیے منہ کی صفائی ایک فطری ضرورت بھی ہے اور عبادت کے ادب سے بھی جڑی ہوئی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ عمل ہمیں بتاتا ہے کہ عبادت سے پہلے ظاہری صفائی کا خیال رکھنا چاہیے۔ مسواک کوئی مشکل عمل نہیں، مگر حدیث میں اس کا ذکر بار بار آتا ہے، اس لیے اسے معمول بنانا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے محبت کی علامت ہو سکتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قیام اللیل کے وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسواک کرتے تھے۔
- عبادت سے پہلے منہ کی صفائی کا اہتمام اچھا عمل ہے۔
- نیند کے بعد مسواک کرنا پاکیزگی کا ذریعہ ہے۔
- صحابہ رضی اللہ عنہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے معمولات محفوظ کیے۔
