صحیح مسلم حدیث ۶۲۴۴ - زبیر رضی اللہ عنہ کی فضیلت
زبیر رضی اللہ عنہ کی فضیلت: حواری رسول والی روایت
صحیح مسلم : ۶۲۴۴
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۲۴۴
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ جميعا ، عَنْ وَكِيعٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ كِلَاهُمَا ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِمَعْنَى حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ .
جابر بن عبداللہ روایت:
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ابن عیینہ کی حدیث کے مانند روایت کرتے ہیں۔
صحیح مسلم حدیث ۶۲۴۴ کا خلاصہ
یہ روایت سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے اور ابن عیینہ کی حدیث کے معنی کے مطابق ہے۔ اس کا تعلق اسی بات سے ہے کہ خندق کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو ایک کام کے لیے پکارا تو سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ بار بار آگے بڑھے۔ اسی موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر نبی کا ایک حواری ہوتا ہے اور میرا حواری زبیر ہے۔ اس حدیث کا مرکزی موضوع زبیر رضی اللہ عنہ کی فضیلت، دینی خدمت میں آمادگی، اور رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کا خاص اعتماد ہے۔ آسان لفظوں میں یہ روایت بتاتی ہے کہ موقع آنے پر نبی صلى الله عليه وسلم کی پکار پر لبیک کہنا بہت بڑی سعادت ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دین کے کام میں آمادگی انسان کے مقام کو ظاہر کرتی ہے۔
- سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کا خاص مددگار فرمایا گیا۔
- صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی فضیلت ان کے عمل سے ظاہر ہوئی۔
- رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی پکار پر جواب دینا بڑی سعادت ہے۔
