صحیح مسلم حدیث ۶۲۴۵ - زبیر رضی اللہ عنہ کے لیے دعا و محبت

خندق کے دن زبیر رضی اللہ عنہ کی فضیلت: میرے ماں باپ تم پر فدا ہوں

صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۲۴۵

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ الْخَلِيلِ ، وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ كلاهما ، عَنْ ابْنِ مُسْهِرٍ ، قَالَ إِسْمَاعِيلُ : أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، قَالَ : " كُنْتُ أَنَا وَعُمَرُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ مَعَ النِّسْوَةِ فِي أُطُمِ حَسَّانَ ، فَكَانَ يُطَأْطِئُ لِي مَرَّةً ، فَأَنْظُرُ وَأُطَأْطِئُ لَهُ مَرَّةً ، فَيَنْظُرُ فَكُنْتُ أَعْرِفُ أَبِي ، إِذَا مَرَّ عَلَى فَرَسِهِ فِي السِّلَاحِ إِلَى بَنِي قُرَيْظَةَ " ، قَالَ : وَأَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، قَالَ : فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِأَبِي ، فَقَالَ : وَرَأَيْتَنِي يَا بُنَيَّ ، قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : أَمَا وَاللَّهِ لَقَدْ جَمَعَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ أَبَوَيْهِ ، فَقَالَ : فَدَاكَ أَبِي وَأُمِّي .

عبداللہ بن زبیر روایت:

میں اور سیدنا عمرو بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ خندق کے دن عورتوں کے ساتھ تھے۔ سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کے قلعہ میں تو کبھی وہ جھک جاتا میرے لیے میں دیکھتا اور کبھی میں جھک جاتا اس کے لیے وہ دیکھتا۔ میں اپنے باپ کو پہچان لیتا جب وہ گھوڑے پر نکلتے ہتھیار باندھے ہوئے بنی قریظہ کی طرف، پھر میں نے یہ ذکر کیا اپنے باپ سے، انہوں نے کہا: بیٹا! تو نے مجھے دیکھا تھا، میں نے کہا: ہاں انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! اس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لیے جمع کر دیا اپنے ماں باپ کو اور فرمایا: ”فدا ہوں تجھ پر ماں باپ میرے۔“

صحیح مسلم حدیث ۶۲۴۵ کا خلاصہ

یہ حدیث سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے بچپن کا ایک واقعہ بیان کرتی ہے۔ وہ خندق کے دن عورتوں کے ساتھ سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کے قلعہ میں تھے۔ وہ اور عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ باری باری جھک کر باہر دیکھتے تھے۔ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے اپنے والد سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کو پہچانا جب وہ گھوڑے پر ہتھیار باندھے بنی قریظہ کی طرف جا رہے تھے۔ بعد میں انہوں نے یہ بات اپنے والد سے کہی تو سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ اسی دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے فرمایا: میرے ماں باپ تم پر فدا ہوں۔ اس حدیث میں زبیر رضی اللہ عنہ کی خدمت، خندق کا واقعہ، اور نبی صلى الله عليه وسلم کی طرف سے خاص محبت نمایاں ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے خندق کے دن اہم خدمت انجام دی۔
  • رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے زبیر رضی اللہ عنہ کے لیے خاص محبت کے الفاظ فرمائے۔
  • صحابہ کرام رضی اللہ عنہم خطرے کے وقت بھی دین کے کام میں حاضر رہے۔
  • بچوں نے بھی اس واقعے کو دیکھا اور بعد میں اسے یاد رکھا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں