صحیح مسلم حدیث ۶۲۴۶ - خندق کے دن زبیر رضی اللہ عنہ
خندق کے دن کا واقعہ: زبیر رضی اللہ عنہ کی خدمت اور گھرانے کی حفاظت
صحیح مسلم : ۶۲۴۶
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۲۴۶
وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، قَالَ : لَمَّا كَانَ يَوْمُ الْخَنْدَقِ كُنْتُ أَنَا ، وَعُمَرُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ فِي الْأُطُمِ الَّذِي فِيهِ النِّسْوَةُ يَعْنِي نِسْوَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَى حَدِيثِ ابْنِ مُسْهِرٍ ، فِي هَذَا الْإِسْنَادِ ، وَلَمْ يَذْكُرْ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُرْوَةَ ، فِي الْحَدِيثِ ، وَلَكِنْ أَدْرَجَ الْقِصَّةَ فِي حَدِيثِ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ ابْنِ الزُّبَيْرِ .
عبداللہ بن زبیر روایت:
خندق والے دن میں اور عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ اس قلعہ میں تھے جس میں عورتیں تھیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھرانے کی عورتیں اور حدیث کو بیان کیا، ابن مسہر کی حدیث کے مطابق اور اس میں عبداللہ بن عروہ کا ذکر نہیں کیا۔
صحیح مسلم حدیث ۶۲۴۶ کا خلاصہ
یہ حدیث بھی خندق کے دن کے واقعے کو بیان کرتی ہے۔ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ اور عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ اس قلعہ میں تھے جہاں عورتیں موجود تھیں، یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھرانے کی عورتیں۔ روایت میں پچھلی حدیث کے معنی کو آگے بیان کیا گیا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خندق کے دن حالات ایسے تھے کہ اہل خانہ کو قلعہ میں رکھا گیا، اور اسی ماحول میں سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کا باہر جانا دیکھا گیا۔ اس حدیث کا مرکزی موضوع خندق کا واقعہ، زبیر رضی اللہ عنہ کی فضیلت، اور صحابہ کی ذمہ داری ہے۔ یہاں اصل بات یہی ہے کہ مشکل وقت میں ہر شخص اپنی جگہ ذمہ داری نبھا رہا تھا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- خندق کے دن اہل خانہ کو محفوظ جگہ رکھا گیا تھا۔
- سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے اس واقعے کو خود دیکھا۔
- سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کی خدمت اسی واقعے کے معنی میں بیان ہوئی۔
- مشکل حالات میں حفاظت اور خدمت دونوں اہم ذمہ داریاں تھیں۔
