صحیح مسلم حدیث ۶۲۵۱ - اطاعت اور ثابت قدمی
اطاعت کی حدیث: زخم کے بعد بھی اللہ اور رسول صلى الله عليه وسلم کی بات ماننا
صحیح مسلم : ۶۲۵۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۲۵۱
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ الْبَهِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، قَالَ : قَالَتْ لِي عَائِشَةُ : " كَانَ أَبَوَاكَ مِنَ الَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِلَّهِ وَالرَّسُولِ مِنْ بَعْدِ مَا أَصَابَهُمُ الْقَرْحُ " .
عروہ روایت:
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھ سے کہا: تیرے دونوں باپ ان لوگوں میں تھے جن کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی «الَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِلَّـهِ وَالرَّسُولِ مِن بَعْدِ مَا أَصَابَهُمُ الْقَرْحُ» (۳-آل عمران: ۱۷۲) یعنی ”جن لوگوں نے اطاعت کی اللہ اور اس کے رسول کی زخمی ہونے پر بھی۔“
صحیح مسلم حدیث ۶۲۵۱ کا خلاصہ
یہ حدیث بھی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بیان پر مشتمل ہے۔ انہوں نے عروہ سے فرمایا کہ تمہارے دونوں باپ ان لوگوں میں سے تھے جن کے بارے میں آیت نازل ہوئی: جنہوں نے زخم پہنچنے کے بعد بھی اللہ اور رسول کی اطاعت کی۔ اس روایت میں اصل بات اطاعت اور ثابت قدمی ہے۔ زخم لگنا ایک سخت حالت ہے، لیکن حدیث میں ان لوگوں کی تعریف آئی ہے جو اس کے بعد بھی پیچھے نہ ہٹے اور اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کا جواب دیا۔ اس لیے یہ روایت صحابہ کی اطاعت، ابوبکر اور زبیر رضی اللہ عنہما کی فضیلت، اور مشکل وقت میں فرمانبرداری کے موضوع پر بہت واضح پیغام دیتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مشکل اور زخم کے بعد بھی اطاعت کرنا صحابہ کی نمایاں خوبی تھی۔
- سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عروہ کو ان کے بزرگوں کا مقام بتایا۔
- اللہ اور رسول صلى الله عليه وسلم کی اطاعت کو روایت میں خاص طور پر ذکر کیا گیا۔
- ثابت قدمی کا تعلق صرف آرام کے وقت سے نہیں، تکلیف کے وقت سے بھی ہے۔
