صحیح مسلم حدیث ۶۲۵۲ - ابو عبیدہ امت کے امین
ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ: اس امت کے امین
صحیح مسلم : ۶۲۵۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۲۵۲
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ خَالِدٍ . ح وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، قَالَ : قَالَ أَنَسٌ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ لِكُلِّ أُمَّةٍ أَمِينًا ، وَإِنَّ أَمِينَنَا أَيَّتُهَا الْأُمَّةُ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ " .
انس روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر امت کا ایک امین ہوتا ہے اور اس امت کے امین ابوعبیدہ بن الجراح ہیں۔“ (اگرچہ اور صحابہ رضی اللہ عنہم بھی امین تھے پر سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ اوروں سے ممتاز تھے)۔
صحیح مسلم حدیث ۶۲۵۲ کا خلاصہ
یہ حدیث امانت داری کے موضوع پر سیدنا ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ کی خاص فضیلت بیان کرتی ہے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر امت کا ایک امین ہوتا ہے، اور اے امت! ہمارے امین ابو عبیدہ بن الجراح ہیں۔ حدیث کا پیغام بہت صاف ہے کہ امانت ایک بڑی دینی صفت ہے، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کو اس صفت کے ساتھ خاص طور پر یاد فرمایا۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں مختلف خوبیاں نمایاں تھیں۔ اس روایت میں ابو عبیدہ کی فضیلت، امت کے امین، اور امانت داری کی حدیث جیسے الفاظ اصل موضوع سے جڑے ہوئے ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- امانت داری ایک بڑی دینی خوبی ہے۔
- رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کو اس امت کا امین فرمایا۔
- ہر شخص کی نمایاں خوبی اس کے عمل اور کردار سے پہچانی جاتی ہے۔
- دین میں اعتماد کے قابل ہونا بہت عزت کی بات ہے۔
