صحیح مسلم حدیث ۶۲۵۵ - ابو عبیدہ کی امانت داری
ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کی امانت داری: اسی مضمون کی روایت
صحیح مسلم : ۶۲۵۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۲۵۵
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ .
ابواسحاق سے اس سند کے ساتھ اسی طرح مروی ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۶۲۵۵ کا خلاصہ
یہ روایت ابو اسحاق سے اسی سند کے ساتھ اسی مضمون کو بیان کرتی ہے۔ اس کا تعلق نجران والوں کے واقعے سے ہے، جہاں انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے امانت دار شخص بھیجنے کی درخواست کی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے شخص کو بھیجنے کا وعدہ فرمایا جو واقعی امانت دار ہو، پھر سیدنا ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ کو بھیجا گیا۔ اس روایت میں الگ سے کوئی نئی تفصیل نہیں، بلکہ پچھلے مضمون ہی کی تائید ہے۔ اس لیے اس کا مرکزی موضوع ابو عبیدہ کی فضیلت، امانت داری، اور رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کا اعتماد ہے۔ آسان زبان میں یہ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ دین کے کاموں میں قابل اعتماد ہونا بہت بڑی خوبی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- یہ روایت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کی امانت داری کے مضمون کی تائید کرتی ہے۔
- رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے ذمہ داری کے لیے قابل اعتماد صحابی کو منتخب فرمایا۔
- امانت داری دینی خدمت کے لیے بنیادی صفت ہے۔
- نجران کے واقعے میں ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کا مقام واضح ہوا۔
