صحیح مسلم حدیث ۶۲۵۳ - دین سکھانے کے لیے امین شخص

یمن والوں کے لیے ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ: سنت اور اسلام سکھانے والے امین

صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۲۵۳

حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ وَهُوَ ابْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ : " أَنَّ أَهْلَ الْيَمَنِ قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالُوا : ابْعَثْ مَعَنَا رَجُلًا يُعَلِّمْنَا السُّنَّةَ وَالْإِسْلَامَ ، قَالَ : فَأَخَذَ بِيَدِ أَبِي عُبَيْدَةَ ، فَقَالَ : هَذَا أَمِينُ هَذِهِ الْأُمَّةِ " .

انس روایت:

کچھ یمن کے لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمارے ساتھ ایک ایسا آدمی بھیجئیے جو ہم کو حدیث اور اسلام سکھائے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا اور فرمایا: ”یہ اس امت کا مانت دار ہے۔“

صحیح مسلم حدیث ۶۲۵۳ کا خلاصہ

یہ حدیث بتاتی ہے کہ یمن کے کچھ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور عرض کیا کہ ہمارے ساتھ ایسا آدمی بھیجیے جو ہمیں سنت اور اسلام سکھائے۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا اور فرمایا: یہ اس امت کا امانت دار ہے۔ اس حدیث میں امانت داری صرف مال کی حفاظت تک محدود نظر نہیں آتی، بلکہ دین سکھانے کی ذمہ داری کے ساتھ بھی جڑی ہوئی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس شخص کو لوگوں کی تعلیم کے لیے منتخب فرمایا، اسے امین بھی فرمایا۔ اس لیے یہ روایت ابو عبیدہ کی فضیلت، امانت داری، سنت کی تعلیم، اور اسلام سکھانے کے موضوع پر بہت اہم ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • دین سکھانے کے لیے قابل اعتماد شخص کا انتخاب کیا گیا۔
  • رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کو اس امت کا امین فرمایا۔
  • سنت اور اسلام سیکھنے کی خواہش یمن والوں کے سوال سے ظاہر ہوتی ہے۔
  • تعلیم دین میں امانت داری بہت اہم صفت ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں