صحیح مسلم حدیث ۶۳۶۱ - سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ اور پہلا اسلامی سلام

سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کی حق طلبی اور اسلامی سلام کی حدیث

صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۳۶۱

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعَنَزِيُّ ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ : قَالَ أَبُو ذَرٍّ : يَا ابْنَ أَخِي ، صَلَّيْتُ سَنَتَيْنِ قَبْلَ مَبْعَثِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : قُلْتُ : فَأَيْنَ كُنْتَ تَوَجَّهُ ؟ قَالَ : حَيْثُ وَجَّهَنِيَ اللَّهُ ، وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِ سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ : فَتَنَافَرَا إِلَى رَجُلٍ مِنَ الْكُهَّانِ ، قَالَ : فَلَمْ يَزَلْ أَخِي أُنَيْسٌ يَمْدَحُهُ حَتَّى غَلَبَهُ ، قَالَ : فَأَخَذْنَا صِرْمَتَهُ فَضَمَمْنَاهَا إِلَى صِرْمَتِنَا ، وَقَالَ أَيْضًا فِي حَدِيثِهِ : قَالَ فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَطَافَ بِالْبَيْتِ وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ خَلْفَ الْمَقَامِ ، قَالَ : فَأَتَيْتُهُ ، فَإِنِّي لَأَوَّلُ النَّاسِ حَيَّاهُ بِتَحِيَّةِ الْإِسْلَامِ ، قَالَ : قُلْتُ : السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : وَعَلَيْكَ السَّلَامُ مَنْ أَنْتَ ؟ وَفِي حَدِيثِهِ أَيْضًا ، فَقَالَ : مُنْذُ كَمْ أَنْتَ هَاهُنَا ؟ قَالَ : قُلْتُ : مُنْذُ خَمْسَ عَشَرَةَ وَفِيهِ ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : أَتْحِفْنِي بِضِيَافَتِهِ اللَّيْلَةَ ؟ .

‏‏‏‏ ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔ اس میں یہ ہے کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت سے دو برس پہلے نماز پڑھی اور یہ ہے کہ دونوں ایک کاہن کے پاس گئے۔ انیس نے اس کاہن کی تعریف شروع کی یہاں تک کہ اس پر غالب آیا اور ہم نے اس کے اونٹ بھی لے کر اپنے اونٹوں میں ملا لیے اور یہ ہے کہ نماز پڑھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقام ابراہیم کے پیچھے اور میں سب سے پہلے وہ شخص ہوں جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسلمانی کا سلام کیا اور یہ ہے کہ میں نے کہا: کہ میں میں پندرہ دن سے یہاں ہوں اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا:: مجھے عزت دیجئیے ان کی ضیافت سے آج کی رات۔

صحیح مسلم حدیث ۶۳۶۱ کا خلاصہ

اس حدیث کا مرکزی پیغام سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کی حق کی تلاش اور اسلامی سلام کے آغاز سے جڑا ہے۔ متن میں آتا ہے کہ وہ نبوت سے پہلے بھی اللہ کے لیے نماز پڑھتے تھے، مگر رخ وہی اختیار کرتے تھے جدھر اللہ ان کا رخ کر دیتا۔ یہ بات ان کے دل کی سچی طلب کو ظاہر کرتی ہے۔ پھر مکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طواف، مقام ابراہیم کے پیچھے نماز، اور ابوذر رضی اللہ عنہ کا سلام کہنا ذکر ہوا۔ اسی وجہ سے اس روایت کو ابوذر رضی اللہ عنہ کی حدیث، اسلامی سلام کی حدیث، اور حق کی تلاش کی حدیث جیسے الفاظ سے تلاش کیا جاتا ہے۔ اس میں ابو بکر رضی اللہ عنہ کی مہمان نوازی بھی صاف نظر آتی ہے۔ متن ہمیں بتاتا ہے کہ ایمان کی طلب، سلام، نماز اور اچھے ساتھ کی قدر ایک ہی واقعے میں جمع ہو سکتے ہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • سچی طلب انسان کو اللہ کی طرف متوجہ رکھتی ہے۔
  • اسلامی سلام محبت اور پہچان کا پاکیزہ طریقہ ہے۔
  • مہمان کی عزت کرنا نیک لوگوں کی عادت میں شامل ہے۔
  • نماز اور اللہ کی طرف رجوع ایمان کی طلب کو مضبوط کرتے ہیں۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں