صحیح مسلم حدیث ۶۴۳۰ - غفار و اسلم

اسلم سالمہا اللہ، غفار غفر اللہ لہا

صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۴۳۰

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ جَمِيعًا ، عَنْ ابْنِ مَهْدِيٍّ ، قَالَ : قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى : حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ائْتِ قَوْمَكَ ، فَقُلْ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَسْلَمُ سَالَمَهَا اللَّهُ ، وَغِفَارُ غَفَرَ اللَّهُ لَهَا " .

‏‏‏‏ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسلم کو اللہ سلامت رکھے اور غفار کو اللہ بخشے۔“

صحیح مسلم حدیث ۶۴۳۰ کا خلاصہ

اس روایت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ اپنی قوم کے پاس جاؤ اور انہیں بتاؤ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسلم کو اللہ سلامت رکھے اور غفار کو اللہ بخشے۔ یہاں صرف دعا نہیں، بلکہ اس دعا کو قوم تک پہنچانے کا حکم بھی ہے۔ اس سے حدیث کا پیغام اور زیادہ واضح ہو جاتا ہے کہ خیر کی بات چھپانے کے بجائے اہل تعلق تک پہنچائی گئی۔ “اسلم سالمہا اللہ” اور “غفار غفر اللہ لہا” اس حدیث کے اہم الفاظ ہیں۔ تشریح میں اتنا ہی کہنا درست ہے کہ اسلم کے لیے سلامتی اور غفار کے لیے مغفرت کا بیان نبوی زبان سے نقل ہوا۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • خیر کی بات متعلقہ لوگوں تک پہنچانا بھی ایک اچھا عمل ہے۔
  • غفار کے لیے مغفرت اور اسلم کے لیے سلامتی کا ذکر صاف الفاظ میں ہے۔
  • حدیث کے عربی الفاظ خود معنی کو مضبوط کرتے ہیں۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں