صحیح مسلم حدیث ۶۳۷۸ - رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے راز کی حفاظت

راز کی حفاظت کی حدیث: انس رضی اللہ عنہ کی امانت داری

صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۳۷۸

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " أَتَى عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَنَا أَلْعَبُ مَعَ الْغِلْمَانِ ، قَالَ : فَسَلَّمَ عَلَيْنَا فَبَعَثَنِي إِلَى حَاجَةٍ ، فَأَبْطَأْتُ عَلَى أُمِّي ، فَلَمَّا جِئْتُ ، قَالَتْ : مَا حَبَسَكَ ؟ قُلْتُ : بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَاجَةٍ ، قَالَتْ : مَا حَاجَتُهُ ؟ قُلْتُ : إِنَّهَا سِرٌّ ، قَالَتْ : لَا تُحَدِّثَنَّ بِسِرِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَدًا ، قَالَ أَنَسٌ : وَاللَّهِ لَوْ حَدَّثْتُ بِهِ أَحَدًا لَحَدَّثْتُكَ يَا ثَابِتُ " .

انس روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور میں لڑکوں کے ساتھ کھیل رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو سلام کیا، پھر مجھے کسی کام کے لیے بھیجا، میں اپنی ماں کے پاس دیر سے گیا، تو میری ماں نے کہا: تو نے کیوں دیر کی؟ میں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک کام کے لیے بھیجا تھا۔ وہ بولی: کیا کام تھا؟ میں نے کہا: وہ بھید ہے . میری ماں بولی: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بھید کسی سے نہ کہنا۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! اگر وہ بھید میں کسی سے کہتا تو اے ثابت تجھ سے کہتا۔

صحیح مسلم حدیث ۶۳۷۸ کا خلاصہ

یہ حدیث امانت اور راز کی حفاظت کا بہت صاف سبق دیتی ہے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ لڑکوں کے ساتھ کھیل رہے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، بچوں کو سلام کیا، پھر انہیں ایک کام کے لیے بھیجا۔ وہ دیر سے گھر پہنچے تو والدہ نے وجہ پوچھی۔ انس رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کام کے لیے بھیجا تھا۔ والدہ نے پوچھا کہ کیا کام تھا؟ انہوں نے کہا: یہ راز ہے۔ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا راز کسی سے نہ کہنا۔ انس رضی اللہ عنہ نے ثابت سے کہا کہ اگر میں یہ راز کسی کو بتاتا تو تمہیں بتاتا۔ اس روایت کا موضوع راز کی حفاظت، امانت، بچوں سے نرمی، اور سلام ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • راز امانت ہوتا ہے، اسے بلا اجازت بیان نہیں کرنا چاہیے۔
  • ام سلیم رضی اللہ عنہا نے بیٹے کو راز محفوظ رکھنے کی تربیت دی۔
  • رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بچوں کو سلام کیا، جو نرم برتاؤ کی مثال ہے۔
  • انس رضی اللہ عنہ نے قریبی شاگرد کو بھی راز نہ بتایا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں