صحیح مسلم حدیث ۶۳۹۶ - ابوہریرہ کی والدہ کے لیے دعا
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی والدہ کی ہدایت: دعا اور دعوت کی حدیث
صحیح مسلم : ۶۳۹۶
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۳۹۶
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ الْيَمَامِيُّ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، عَنْ أَبِي كَثِيرٍ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " كُنْتُ أَدْعُو أُمِّي إِلَى الْإِسْلَامِ وَهِيَ مُشْرِكَةٌ ، فَدَعَوْتُهَا يَوْمًا فَأَسْمَعَتْنِي فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَكْرَهُ ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَبْكِي ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي كُنْتُ أَدْعُو أُمِّي إِلَى الْإِسْلَامِ ، فَتَأْبَى عَلَيَّ ، فَدَعَوْتُهَا الْيَوْمَ فَأَسْمَعَتْنِي فِيكَ مَا أَكْرَهُ ، فَادْعُ اللَّهَ أَنْ يَهْدِيَ أُمَّ أَبِي هُرَيْرَةَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اللَّهُمَّ اهْدِ أُمَّ أَبِي هُرَيْرَةَ ، فَخَرَجْتُ مُسْتَبْشِرًا بِدَعْوَةِ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا جِئْتُ فَصِرْتُ إِلَى الْبَابِ ، فَإِذَا هُوَ مُجَافٌ ، فَسَمِعَتْ أُمِّي خَشْفَ قَدَمَيَّ ، فَقَالَتْ : مَكَانَكَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ ، وَسَمِعْتُ خَضْخَضَةَ الْمَاءِ ، قَالَ : فَاغْتَسَلَتْ وَلَبِسَتْ دِرْعَهَا وَعَجِلَتْ عَنْ خِمَارِهَا ، فَفَتَحَتِ الْبَابَ ، ثُمَّ قَالَتْ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ : أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ، قَالَ : فَرَجَعْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَيْتُهُ وَأَنَا أَبْكِي مِنَ الْفَرَحِ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَبْشِرْ قَدِ اسْتَجَابَ اللَّهُ دَعْوَتَكَ وَهَدَى أُمَّ أَبِي هُرَيْرَةَ ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، وَقَالَ : خَيْرًا ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يُحَبِّبَنِي أَنَا وَأُمِّي إِلَى عِبَادِهِ الْمُؤْمِنِينَ وَيُحَبِّبَهُمْ إِلَيْنَا ، قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اللَّهُمَّ حَبِّبْ عُبَيْدَكَ هَذَا يَعْنِي أَبَا هُرَيْرَةَ وَأُمَّهُ إِلَى عِبَادِكَ الْمُؤْمِنِينَ ، وَحَبِّبْ إِلَيْهِمُ الْمُؤْمِنِينَ ، فَمَا خُلِقَ مُؤْمِنٌ يَسْمَعُ بِي وَلَا يَرَانِي إِلَّا أَحَبَّنِي " .
ابوہریرہ روایت:
میں اپنی ماں کو بلاتا تھا اسلام کی طرف، وہ مشرکہ تھی، ایک دن میں نے اس سے مسلمان ہونے کے لیے کہا۔ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں وہ بات سنائی جو مجھ کو ناگوار گزری۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا روتا ہوا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میں اپنی ماں کو اسلام کی طرف بلاتا تھا وہ نہ مانتی تھی، آج اس نے آپ کے حق میں وہ بات مجھ کو سنائی جو مجھے ناگوار ہے، تو آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئیے کہ ابوہریرہ کی ماں کو ہدایت کرے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یا اللہ! ابوہریرہ کی ماں کو ہدایت کر۔“میں خوش ہو کر نکلا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا سے جب گھر پر آیا اور دروازے پر پہنچا تو وہ بند تھا۔ میری ماں نے میرے پاؤں کی آواز سنی اور بولی ذرا ٹھہر جا۔ میں نے پانی کے گرنے کی آواز سنی۔ غرض میری ماں نے غسل کیا اور اپنا کرتا پہنا اور جلدی سے اوڑھنی اوڑھی پھر دروازہ کھولا اور بولی: اے ابو ہریرہ! میں گواہی دیتی ہوں کہ کوئی برحق معبود نہیں ہے سوا اللہ تعالیٰ کے اور میں گواہی دیتی ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس روتا ہوا آیا خوشی سے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! خوش ہو جائیے اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول کی اور ابوہریرہ کی ماں کو ہدایت کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی تعریف اور اس کی صفت کی اور بہتر بات کہی۔میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اللہ عزوجل سے دعا کیجئیے کہ میری اور میری ماں کی محبت مسلمانوں کے دلوں میں ڈال دے اور ان کی محبت ہمارے دلوں میں ڈال دے۔ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یا اللہ! اپنے بندے کی یعنی ابوہریرہ اور ان کی ماں کی محبت اپنے مؤمن بندوں کے دلوں میں ڈال دے اور مؤمنوں کی محبت ان کے دلوں میں ڈال دے۔“ پھر کوئی مؤمن ایسا نہیں پیدا ہوا جس نے مجھے سنا ہو یا دیکھا ہو مگر محبت رکھی اس نے مجھ سے۔
صحیح مسلم حدیث ۶۳۹۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اپنی والدہ کو اسلام کی طرف بلاتے تھے، جبکہ وہ اس وقت مشرکہ تھیں۔ ایک دن انہوں نے ایسی بات کہی جو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں ناگوار گزری۔ وہ روتے ہوئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور اپنی والدہ کے لیے ہدایت کی دعا کی درخواست کی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی: اے اللہ! ابوہریرہ کی ماں کو ہدایت دے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ خوش ہو کر گھر گئے تو والدہ نے غسل کیا، دروازہ کھولا، اور کلمہ شہادت پڑھ لیا۔ پھر ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اپنے اور اپنی والدہ کے لیے مؤمنوں کے دلوں میں محبت کی دعا بھی کروائی۔ یہ حدیث والدین کو دعوت، ہدایت کی دعا، ماں کے اسلام، اور مؤمنوں کی محبت کے موضوعات میں بہت تلاش کی جاتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اپنے قریبی رشتہ داروں کو نرمی کے ساتھ اسلام کی دعوت دی جا سکتی ہے۔
- ہدایت اللہ کے ہاتھ میں ہے، اس لیے دعا بہت اہم ہے۔
- ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے تکلیف کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دعا کی درخواست کی۔
- مؤمنوں کی باہمی محبت کے لیے بھی دعا کی گئی۔
