صحیح مسلم حدیث ۶۴۰۰ - علم چھپانے سے بچنا
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے زیادہ حدیثیں کیوں بیان کیں؟
صحیح مسلم : ۶۴۰۰
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۴۰۰
(حديث مرفوع) قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : وَقَالَ ابْنُ الْمُسَيَّبِ : إِنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ : يَقُولُونَ : " إِنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَدْ أَكْثَرَ وَاللَّهُ الْمَوْعِدُ ، وَيَقُولُونَ : مَا بَالُ الْمُهَاجِرِينَ ، وَالْأَنْصَارِ لَا يَتَحَدَّثُونَ مِثْلَ أَحَادِيثِهِ ، وَسَأُخْبِرُكُمْ عَنْ ذَلِكَ ، إِنَّ إِخْوَانِي مِنْ الْأَنْصَارِ كَانَ يَشْغَلُهُمْ عَمَلُ أَرَضِيهِمْ ، وَإِنَّ إِخْوَانِي مِنْ الْمُهَاجِرِينَ كَانَ يَشْغَلُهُمُ الصَّفْقُ بِالْأَسْوَاقِ ، وَكُنْتُ أَلْزَمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مِلْءِ بَطْنِي ، فَأَشْهَدُ إِذَا غَابُوا وَأَحْفَظُ إِذَا نَسُوا ، وَلَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا : أَيُّكُمْ يَبْسُطُ ثَوْبَهُ فَيَأْخُذُ مِنْ حَدِيثِي هَذَا ، ثُمَّ يَجْمَعُهُ إِلَى صَدْرِهِ ، فَإِنَّهُ لَمْ يَنْسَ شَيْئًا سَمِعَهُ ، فَبَسَطْتُ بُرْدَةً عَلَيَّ حَتَّى فَرَغَ مِنْ حَدِيثِهِ ، ثُمَّ جَمَعْتُهَا إِلَى صَدْرِي ، فَمَا نَسِيتُ بَعْدَ ذَلِكَ الْيَوْمِ شَيْئًا حَدَّثَنِي بِهِ ، وَلَوْلَا آيَتَانِ أَنْزَلَهُمَا اللَّهُ فِي كِتَابِهِ مَا حَدَّثْتُ شَيْئًا أَبَدًا : إِنَّ الَّذِينَ يَكْتُمُونَ مَا أَنْزَلْنَا مِنَ الْبَيِّنَاتِ وَالْهُدَى سورة البقرة آية 159 ، إِلَى آخِرِ الْآيَتَيْنِ " . وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، عَنْ شُعَيْبٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ : إِنَّكُمْ تَقُولُونَ إِنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ يُكْثِرُ الْحَدِيثَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِ حَدِيثِهِمْ .
ابوہریرہ روایت:
تم کہتے ہو کہ ابوہریرہ بہت حدیثیں بیان کرتے ہیں ان کی حدیث کی مانند بیان کیا۔
صحیح مسلم حدیث ۶۴۰۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ خود بتاتے ہیں کہ لوگ کہتے ہیں ابوہریرہ نے بہت حدیثیں بیان کیں۔ پھر انہوں نے اس کی وجہ بیان کی کہ انصار اپنی زمینوں کے کام میں مصروف تھے، مہاجرین بازار کے معاملات میں لگے رہتے تھے، اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پیٹ بھر کھانے پر رہتے تھے۔ اس لیے جب دوسرے حاضر نہ ہوتے تو وہ حاضر ہوتے، اور جب دوسرے بھول جاتے تو وہ یاد رکھتے۔ پھر کپڑا بچھانے والا واقعہ بھی ذکر کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے بعد انہوں نے سنی ہوئی بات نہ بھولی۔ آخر میں انہوں نے کہا کہ اگر قرآن کی دو آیتیں نہ ہوتیں، جن میں ہدایت چھپانے والوں کا ذکر ہے، تو وہ حدیث بیان نہ کرتے۔ یہ حدیث علم حدیث، ابوہریرہ کی روایات، حفظ حدیث، اور علم نہ چھپانے کے موضوعات کے لیے بہت اہم ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے زیادہ حدیث بیان کرنے کی وجہ واضح کی۔
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت اور حاضری علم کا بڑا سبب بنی۔
- انہوں نے علم چھپانے سے بچنے کے لیے حدیث بیان کی۔
- حفظ حدیث کے واقعے کو انہوں نے اپنی روایت کی بنیاد کے طور پر بیان کیا۔
