صحیح مسلم حدیث ۶۳۹۹ - حدیث بیان کرنے کا انداز

حدیث بیان کرنے کا انداز: عائشہ رضی اللہ عنہا کی بات

صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۳۹۹

وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي التُّجِيبِيُّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ حَدَّثَهُ أَنَّ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " أَلَا يُعْجِبُكَ أَبُو هُرَيْرَةَ ، جَاءَ فَجَلَسَ إِلَى جَنْبِ حُجْرَتِي يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسْمِعُنِي ذَلِكَ وَكُنْتُ أُسَبِّحُ ، فَقَامَ قَبْلَ أَنْ أَقْضِيَ سُبْحَتِي ، وَلَوْ أَدْرَكْتُهُ لَرَدَدْتُ عَلَيْهِ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ يَسْرُدُ الْحَدِيثَ كَسَرْدِكُمْ " .

عائشہ روایت:

کیا تعجب نہیں کرتے تم ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ پر، وہ آئے اور میرے حجرے کے ایک طرف بیٹھ کر حدیث بیان کرنے لگے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے، میں سن رہی تھی لیکن میں تسبیح پڑھتی تھی اور وہ میرے فارغ ہونے سے پہلے چل دیئے اگر میں ان کو پاتی تو ان کا رد کرتی کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح سے جلدی جلدی باتیں نہیں کرتے تھے جیسے تم کرتے ہو۔سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: لوگ کہتے ہیں کہ ابوہریرہ نے بہت حدیثیں بیان کیں اور اللہ تعالیٰ جانچنے والا ہے اور یہ بھی کہتے ہیں کہ مہاجرین اور انصار ابو ہریرہ کی طرح حدیثیں بیان نہیں کرتے اور میں تم سے اس کا سبب بیان کرتا ہوں، میرے بھائی انصاری جو تھے وہ اپنی زمین کی خدمت میں مشغول رہتے اور جو مہاجرین تھے وہ بازار کے معاملوں میں اور میں اپنا پیٹ بھر کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہتا تو میں حاضر رہتا اور وہ غائب ہوتے اور میں یاد رکھتا وہ بھول جاتے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک دن: ”کون تم میں سے اپنا کپڑا بچھاتا ہے اور میری حدیث سنتا ہے، پھر اس کو اپنے سینے سے لگا دے تو جو بات سنے گا وہ نہ بھولے گا۔“میں نے اپنی چادر بچھا دی یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم حدیث سے فارغ ہوئے، پھر میں نے اس چادر کو سینے سے لگا لیا، اس دن سے میں کسی بات کو جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کی، نہیں بھولا اور اگر یہ دو آیتیں نہ ہوتیں جو قرآن مجید میں اتری ہیں تو میں کسی سے کوئی حدیث بیان نہ کرتا «إِنَّ الَّذِينَ يَكْتُمُونَ مَا أَنْزَلْنَا مِنَ الْبَيِّنَاتِ وَالْهُدَى» ان آیتوں کا ترجمہ یہ ہے جو لوگ چھپاتے ہیں جو ہم نے اتاریں نشانیاں اور ہدایت کی باتیں ان پر لعنت ہے آخر تک۔

صحیح مسلم حدیث ۶۳۹۹ کا خلاصہ

اس حدیث میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حدیث بیان کرنے کا واقعہ ذکر کیا۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ان کے حجرے کے ایک طرف بیٹھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیثیں بیان کر رہے تھے، اور عائشہ رضی اللہ عنہا تسبیح پڑھ رہی تھیں۔ وہ ان کے فارغ ہونے سے پہلے چلے گئے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ اگر میں انہیں پاتی تو ان کا رد کرتی، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح مسلسل تیز تیز بات نہیں کرتے تھے جیسے تم لوگ کرتے ہو۔ اس حدیث کا موضوع حدیث بیان کرنے کا انداز ہے۔ اس میں اصل سبق یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کا طریقہ عام لوگوں کے تیز بیان جیسا نہیں تھا۔ حدیث کے طالب علم کے لیے الفاظ کے ساتھ انداز، ٹھہراؤ اور سمجھ بھی اہم ہیں۔ سرچ کے لیے اہم الفاظ عائشہ رضی اللہ عنہا حدیث، ابوہریرہ روایت، اور حدیث بیان کرنے کا طریقہ ہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • حدیث بیان کرتے وقت انداز اور ٹھہراؤ کا بھی خیال ہونا چاہیے۔
  • عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقہ گفتگو کی طرف توجہ دلائی۔
  • رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات عام تیز رفتار بیان جیسی نہ تھی۔
  • سننے والے کی سمجھ بھی روایت کے آداب میں شامل ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں