صحیح مسلم حدیث ۶۳۹۷ - ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا حافظہ
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا حافظہ اور حدیث یاد رہنے کا واقعہ
صحیح مسلم : ۶۳۹۷
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۳۹۷
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ جَمِيعًا ، عَنْ سُفْيَانَ ، قَالَ زُهَيْرٌ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : " إِنَّكُمْ تَزْعُمُونَ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ يُكْثِرُ الْحَدِيثَ عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَاللَّهُ الْمَوْعِدُ كُنْتُ رَجُلًا مِسْكِينًا أَخْدُمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مِلْءِ بَطْنِي ، وَكَانَ الْمُهَاجِرُونَ يَشْغَلُهُمُ الصَّفْقُ بِالْأَسْوَاقِ ، وَكَانَتْ الْأَنْصَارُ يَشْغَلُهُمُ الْقِيَامُ عَلَى أَمْوَالِهِمْ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ يَبْسُطْ ثَوْبَهُ فَلَنْ يَنْسَى شَيْئًا سَمِعَهُ مِنِّي ، فَبَسَطْتُ ثَوْبِي حَتَّى قَضَى حَدِيثَهُ ثُمَّ ضَمَمْتُهُ إِلَيَّ ، فَمَا نَسِيتُ شَيْئًا سَمِعْتُهُ مِنْهُ " .
ابوہریرہ روایت:
تم سمجھتے ہو کہ ابوہریرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیثیں بہت بیان کرتے ہیں اور اللہ حساب لینے والا ہے (اگر میں جھوٹ بولتا ہوں یا تم میرے اوپر غلط گمان کرتے ہو) میں ایک مسکین شخص تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیٹ بھرے پر کیا کرتا تھا اور مہاجروں کو بازاروں میں معاملہ کرنے سے فرصت نہ تھی اور انصار اپنے مالوں کی حفاظت اور خدمت میں مصروف رہتے تھے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اپنا کپڑا بچھا دے وہ جو مجھ سے سنے گا نہ بھولے گا۔“میں نے اپنا کپڑا بچھا دیا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم حدیث بیان کر چکے، پھر میں نے اس کپڑے کو اپنے سینے سے لگا لیا اور کوئی بات نہ بھولا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی تھی۔
صحیح مسلم حدیث ۶۳۹۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ان لوگوں کا جواب دیتے ہیں جو کہتے تھے کہ ابوہریرہ بہت حدیثیں بیان کرتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ مسکین شخص تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں رہتے تھے۔ مہاجرین بازار کے کاموں میں مصروف رہتے تھے اور انصار اپنے اموال اور زمینوں کے کام میں لگے رہتے تھے، جبکہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود رہتے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو اپنا کپڑا بچھا دے، وہ مجھ سے سنی ہوئی بات نہ بھولے گا۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کپڑا بچھایا، پھر سینے سے لگا لیا، اور فرمایا کہ اس کے بعد جو کچھ سنا وہ نہ بھولا۔ یہ حدیث حفظ حدیث، ابوہریرہ کا حافظہ، اور علم حدیث کے شوق کے موضوعات میں خاص طور پر تلاش کی جاتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ابوہریرہ رضی اللہ عنہ زیادہ وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گزارتے تھے۔
- انہوں نے اپنے زیادہ حدیث بیان کرنے کی وجہ خود واضح کی۔
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا اور ارشاد سے ان کا حفظ مضبوط ہوا۔
- علم حاصل کرنے کے لیے وقت دینا اور حاضر رہنا اہم ہے۔
