حدیث ۶۴۰۱
صحیح مسلم : ۶۴۰۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۴۰۱
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، وَاللَّفْظُ لِعَمْرٍو ، قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا ، وقَالَ الْآخَرُونَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي رَافِعٍ ، وَهُوَ كَاتِبُ عَلِيٍّ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ يَقُولُ : " بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا وَالزُّبَيْرَ ، وَالْمِقْدَادَ ، فَقَالَ : ائْتُوا رَوْضَةَ خَاخٍ ، فَإِنَّ بِهَا ظَعِينَةً ، مَعَهَا كِتَابٌ فَخُذُوهُ مِنْهَا ، فَانْطَلَقْنَا تَعَادَى بِنَا خَيْلُنَا ، فَإِذَا نَحْنُ بِالْمَرْأَةِ ، فَقُلْنَا : أَخْرِجِي الْكِتَابَ ، فَقَالَتْ : مَا مَعِي كِتَابٌ ، فَقُلْنَا : لَتُخْرِجِنَّ الْكِتَابَ أَوْ لَتُلْقِيَنَّ الثِّيَابَ ، فَأَخْرَجَتْهُ مِنْ عِقَاصِهَا ، فَأَتَيْنَا بِهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَإِذَا فِيهِ مِنْ حَاطِبِ بْنِ أَبِي بَلْتَعَةَ إِلَى نَاسٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ يُخْبِرُهُمْ بِبَعْضِ أَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا حَاطِبُ : مَا هَذَا ؟ قَالَ : لَا تَعْجَلْ عَلَيَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي كُنْتُ امْرَأً مُلْصَقًا فِي قُرَيْشٍ ، قَالَ سُفْيَانُ : كَانَ حَلِيفًا لَهُمْ ، وَلَمْ يَكُنْ مِنْ أَنْفُسِهَا أَكَانَ مِمَّنْ كَانَ مَعَكَ مِنْ الْمُهَاجِرِينَ لَهُمْ قَرَابَاتٌ يَحْمُونَ بِهَا أَهْلِيهِمْ ، فَأَحْبَبْتُ إِذْ فَاتَنِي ذَلِكَ مِنَ النَّسَبِ فِيهِمْ ، أَنْ أَتَّخِذَ فِيهِمْ يَدًا يَحْمُونَ بِهَا قَرَابَتِي ، وَلَمْ أَفْعَلْهُ كُفْرًا ، وَلَا ارْتِدَادًا عَنْ دِينِي ، وَلَا رِضًا بِالْكُفْرِ بَعْدَ الْإِسْلَامِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : صَدَقَ ، فَقَالَ عُمَرُ : دَعْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَضْرِبْ عُنُقَ هَذَا الْمُنَافِقِ ، فَقَالَ : إِنَّهُ قَدْ شَهِدَ بَدْرًا وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّ اللَّهَ اطَّلَعَ عَلَى أَهْلِ بَدْرٍ ، فَقَالَ : اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ فَقَدْ غَفَرْتُ لَكُمْ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَتَّخِذُوا عَدُوِّي وَعَدُوَّكُمْ أَوْلِيَاءَ سورة الممتحنة آية 1 ، وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ أَبِي بَكْرٍ ، وَزُهَيْرٍ ذِكْرُ الْآيَةِ ، وَجَعَلَهَا إِسْحَاقُ ، فِي رِوَايَتِهِ مِنْ تِلَاوَةِ سُفْيَانَ .
سیدنا عبیداللہ بن ابی رافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ منشی تھے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے۔ انہوں نے کہا: میں نے سنا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے، وہ کہتے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ کو اور زبیر اور مقداد رضی اللہ عنہما کو بھیجا اور فرمایا: ”شفتالو کے باغ میں جاؤ وہاں ایک عورت شتر سوار ہے اس کے پاس ایک خط ہے وہ اس سے لے کر آؤ۔“ ہم چلے گھوڑے دوڑاتے ہوئے ناگاہ وہ عورت ہم کو ملی ہم نے اس سے کہا: خط نکال۔ وہ بولی:میرے پاس تو کوئی خط نہیں۔ ہم نے کہا: خط نکال یا اپنے کپڑے اتار۔ پھر میں نے وہ خط اس کے جوڑے سے نکالا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر آیا۔ اس میں لکھا تھا: حاطب بن ابی بلتعہ کی طرف سے مکہ کے بعض مشرکین کے نام، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعض باتوں کا ذکر تھا (ایک روایت میں ہے کہ حاطب رضی اللہ عنہ نے اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تیاری اور فوج کی آمادگی اور مکہ کی روانگی سے کافروں کو مطلع کر دیا)، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے حاطب تو نے یہ کیا کیا؟“ وہ بولا: آپ جلدی نہ فرمائیے، یا رسول اللہ! (یعنی فورا بولا: مجھے سزا نہ دیجئیے میرا حال سن لیجئے) میں ایک شخص تھا قریش سے ملا ہوا یعنی ان کا حلیف تھا اور قریش میں سے نہ تھا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مہاجرین جو ہیں ان کے رشتہ دار قریش میں بہت ہیں جن کی وجہ سے ان کے گھر بار کا بچاؤ ہوتا ہے تو میں نے یہ چاہا کہ میرا ناتا تو قریش سے ہے نہیں میں بھی کوئی ایسا کام کر دوں جس سے میرے ناتے والوں کا بچاؤ ہو جائے۔ اور میں نے یہ کام اس وجہ سے نہیں کیا کہ میں کافر ہو گیا ہوں یا مرتد ہو گیا ہوں، نہ کفر سے خوش ہو کر مسلمان ہونے کے بعد۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حاطب نے سچ کہا۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ چھوڑئیے یا رسول اللہ! میں اس منافق کی گردن ماروں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تو بدر کی لڑائی میں شریک تھا اور تو نہیں جانتا کہ اللہ تعالیٰ نے بدر والوں پر جھانکا اور فرمایا: تم جو اعمال چاہو کرو (بشرطیکہ کفر تک نہ پہنچیں) میں نے تم کو بخش دیا۔“ تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری: «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لاَ تَتَّخِذُوا عَدُوِّي وَعَدُوَّكُمْ أَوْلِيَاءَ» ”اے ایمان والو! میرے دشمن اور اپنے دشمن کو دوست مت بناؤ“۔
