صحیح مسلم حدیث ۶۴۰۴ - اصحاب شجرہ کی فضیلت اور نجات

اصحاب شجرہ کی فضیلت: بیعت رضوان والوں کے لیے خوشخبری

صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۴۰۴

حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ : أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : أَخْبَرَتْنِي أُمُّ مُبَشِّرٍ ، أَنَّهَا سَمِعَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ عِنْدَ حَفْصَةَ : " لَا يَدْخُلُ النَّارَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ مِنْ أَصْحَابِ الشَّجَرَةِ أَحَدٌ الَّذِينَ بَايَعُوا تَحْتَهَا ، قَالَتْ : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَانْتَهَرَهَا ، فَقَالَتْ حَفْصَةُ : وَإِنْ مِنْكُمْ إِلا وَارِدُهَا سورة مريم آية 71 ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : قَدْ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : ثُمَّ نُنَجِّي الَّذِينَ اتَّقَوْا وَنَذَرُ الظَّالِمِينَ فِيهَا جِثِيًّا سورة مريم آية 72 " .

ام مبشر روایت:

سیدہ ام مبشر رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، اس نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے ام المومنین سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس: ”اگر اللہ چاہے تو اصحاب شجرہ میں سے کوئی جہنم میں نہ جائے گا یعنی جن لوگوں نے بیعت کی اس درخت کے نیچے۔“ انہوں نے کہا: کیوں نہ جائیں گے یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو جھڑکا۔انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «وَإِنْ مِنْكُمْ إِلاَّ وَارِدُهَا» (۱۹ مریم: ۷۱) یعنی ”کوئی تم میں سے ایسا نہیں ہے جو جہنم پر نہ جائے۔“رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے بعد یہ ہے «ثُمَّ نُنَجِّي الَّذِينَ اتَّقَوْا وَنَذَرُ الظَّالِمِينَ فِيهَا جِثِيًّا» (۱۹ مریم: ۷۲) یعنی ”پھر ہم نجات دیں گے پرہیز گاروں کو اور چھوڑ دیں گے ظالموں کو گھٹنوں کے بل۔“

صحیح مسلم حدیث ۶۴۰۴ کا خلاصہ

اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس فرمایا کہ اگر اللہ چاہے تو اصحاب شجرہ میں سے کوئی جہنم میں داخل نہیں ہوگا، یعنی وہ لوگ جنہوں نے درخت کے نیچے بیعت کی تھی۔ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے قرآن کی آیت پیش کی کہ ہر ایک کا جہنم پر گزر ہوگا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں اگلی آیت کا ذکر فرمایا کہ پھر اللہ تعالیٰ پرہیزگاروں کو نجات دے گا اور ظالموں کو چھوڑ دے گا۔ اس حدیث میں بیعت کرنے والے صحابہ کی فضیلت، قرآن کی آیت کو اگلی آیت کے ساتھ سمجھنے کا طریقہ، اور اللہ کے ہاں تقویٰ کی اہمیت سامنے آتی ہے۔ بات کو آدھا سن کر نہیں، پورا سمجھنا چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • اصحاب شجرہ کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑی خوشخبری بیان فرمائی۔
  • قرآن کی آیت کو پورے سیاق کے ساتھ سمجھنا چاہیے۔
  • نجات کا تعلق اللہ کے فضل اور تقویٰ سے ہے۔
  • دینی بات میں جلدی جواب دینے کے بجائے مکمل بات سننی چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں