صحیح مسلم حدیث ۶۴۰۵ - خوشخبری قبول کرنے کی اہمیت

نبی صلى الله عليه وسلم کی بشارت قبول کرنے کی حدیث: ابوموسیٰ اور بلال رضی اللہ عنہما کا واقعہ

صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۴۰۵

حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْأَشْعَرِيُّ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ جَمِيعًا ، عَنْ أَبِي أُسَامَةَ ، قَالَ أَبُو عَامِرٍ : حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا بُرَيْدٌ ، عَنْ جَدِّهِ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : " كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ نَازِلٌ بِالْجِعْرَانَةِ بَيْنَ مَكَّةَ ، وَالْمَدِينَةِ وَمَعَهُ بِلَالٌ ، فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ أَعْرَابِيٌّ ، فَقَالَ : أَلَا تُنْجِزُ لِي يَا مُحَمَّدُ مَا وَعَدْتَنِي ؟ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَبْشِرْ ، فَقَالَ لَهُ الْأَعْرَابِيُّ : أَكْثَرْتَ عَلَيَّ مِنْ أَبْشِرْ ، فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَبِي مُوسَى ، وَبِلَالٍ كَهَيْئَةِ الْغَضْبَانِ ، فَقَالَ : إِنَّ هَذَا قَدْ رَدَّ الْبُشْرَى فَاقْبَلَا أَنْتُمَا ، فَقَالَا : قَبِلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ثُمَّ دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَدَحٍ فِيهِ مَاءٌ ، فَغَسَلَ يَدَيْهِ وَوَجْهَهُ فِيهِ وَمَجَّ فِيهِ ، ثُمَّ قَالَ : اشْرَبَا مِنْهُ ، وَأَفْرِغَا عَلَى وُجُوهِكُمَا وَنُحُورِكُمَا ، وَأَبْشِرَا ، فَأَخَذَا الْقَدَحَ فَفَعَلَا مَا أَمَرَهُمَا بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَنَادَتْهُمَا أُمُّ سَلَمَةَ مِنْ وَرَاءِ السِّتْرِ ، أَفْضِلَا لِأُمِّكُمَا مِمَّا فِي إِنَائِكُمَا فَأَفْضَلَا لَهَا مِنْهُ طَائِفَةً " .

ابوموسیٰ روایت:

میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جعرانہ میں اترے تھے مکہ اور مدینہ کے بیچ میں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بلال تھے اتنے میں ایک گنوار آپ کے پاس آیا اور بولا: ”یا رسول اللہ! اپنا وعدہ پورا نہیں کرتے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خوش ہو جا۔“ وہ بولا: آپ بہت فرماتے ہیں خوش ہو جا . پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم متوجہ ہوئے سیدنا ابوموسیٰ اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہما کی طرف غصہ کی شکل پر اور فرمایا: ”اس نے رد کیا خوشخبری کو تم قبول کرو۔“ دونوں نے کہا: ”ہم نے قبول کیا۔“پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک پیالہ پانی کا منگوایا اور دونوں ہاتھ۔ اور منہ دھوئے اور اس میں تھوکا، پھر دونوں سے کہا: ”اس پانی کو پی لو اور اپنے منہ اور سینے پر ڈالو اور خوش ہو جاؤ۔“ ان دونوں نے پیالہ لے کر ایسا ہی کیا۔ ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہما نے ان کو پردے کی آڑ سے آواز دی اپنی ماں کے لیے بھی کچھ بچا ہوا پانی لاؤ۔ انہوں نے ان کو بھی کچھ بچا ہوا پانی دیا۔

صحیح مسلم حدیث ۶۴۰۵ کا خلاصہ

اس حدیث میں ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جعرانہ میں تھے اور بلال رضی اللہ عنہ بھی ساتھ تھے۔ ایک اعرابی آیا اور وعدے کے بارے میں سخت انداز میں بات کی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے خوشخبری دی، مگر اس نے کہا کہ آپ بہت کہتے ہیں خوش ہو جا۔ اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوموسیٰ اور بلال رضی اللہ عنہما کی طرف توجہ فرمائی اور فرمایا کہ اس نے بشارت رد کر دی، تم اسے قبول کرو۔ انہوں نے قبول کیا۔ پھر پانی کے پیالے کا واقعہ پیش آیا اور ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے بھی اس پانی میں سے حصہ مانگا۔ اس حدیث کا سبق یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بشارت کو ادب اور خوشی سے قبول کرنا چاہیے، اور بدتمیزی سے محرومی ہو سکتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشخبری کو ادب سے قبول کرنا چاہیے۔
  • سخت لہجہ انسان کو خیر سے محروم کر سکتا ہے۔
  • ابوموسیٰ اور بلال رضی اللہ عنہما نے فوراً بشارت قبول کی۔
  • صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت والی چیز کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں