صحیح مسلم حدیث ۶۴۱ - موزوں پر مسح کا مسئلہ
موزوں پر مسح کا مسئلہ اور اہل علم سے رجوع
صحیح مسلم : ۶۴۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۴۱
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنِ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ ، فَقَالَتْ : ائْتِ عَلِيًّا ، فَإِنَّهُ أَعْلَمُ بِذَلِكَ مِنِّي ، فَأَتَيْتُ عَلِيًّا فَذَكَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِمِثْلِهِ .
شریح بن ہانی روایت:
میں نے پوچھا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے موزوں پر مسح کا مسئلہ تو کہنے لگیں: تم علی کے پاس جاؤ کیونکہ وہ مجھ سے یہ مسئلہ زیادہ جانتے ہیں تو میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح بیان کیا جیسے ابھی ذکر ہوا۔
صحیح مسلم حدیث ۶۴۱ کا خلاصہ
اس حدیث میں شریح بن ہانی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے موزوں پر مسح کا مسئلہ پوچھا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے جواب دینے کے بجائے انہیں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا اور فرمایا کہ وہ اس مسئلے کو مجھ سے زیادہ جانتے ہیں۔ پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے نبی صلى الله عليه وسلم سے اسی طرح روایت بیان کی جیسے پہلے ذکر ہوا۔ اس روایت کا مرکزی پیغام موزوں پر مسح کے حکم کے ساتھ یہ بھی ہے کہ دینی مسئلہ پوچھتے وقت ایسے شخص کی طرف رجوع کیا جائے جو اس باب کو زیادہ جانتا ہو۔ اس میں علمی امانت بھی دکھائی دیتی ہے کہ صحابہ کرام جس مسئلے میں دوسرے کو زیادہ جانتے، سائل کو اس کے پاس بھیج دیتے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دینی مسئلے میں اہل علم سے سوال کرنا درست طریقہ ہے۔
- جس مسئلے میں کوئی دوسرا زیادہ جانتا ہو، اس کی طرف رہنمائی کرنا علمی دیانت ہے۔
- موزوں پر مسح کا مسئلہ نبی صلى الله عليه وسلم سے ثابت شدہ روایت کے ذریعے بیان ہوا۔
