صحیح مسلم حدیث ۶۴۲۴ - انصار اور عدل
انصار کی فضیلت اور عدل: بنی نجار سے بنی ساعدہ تک
صحیح مسلم : ۶۴۲۴
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۴۲۴
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ عَبَّادٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ الرَّازِيُّ ، حَدَّثَنَا حَاتِمٌ وَهُوَ ابْنُ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُمَيْدٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا أُسَيْدٍ خَطِيبًا عِنْدَ ابْنِ عُتْبَةَ ، فقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خَيْرُ دُورِ الْأَنْصَارِ دَارُ بَنِي النَّجَّارِ ، وَدَارُ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ ، وَدَارُ بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ ، وَدَارُ بَنِي سَاعِدَةَ وَاللَّهِ لَوْ كُنْتُ مُؤْثِرًا بِهَا أَحَدًا لَآثَرْتُ بِهَا عَشِيرَتِي " .
ابواسید انصاری روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انصار کے سب گھروں میں بنی نجار کا گھر بہتر ہے اور بنی الاشہل کا اور بنی حارث بن خزرج کا اور بنی ساعدہ کا۔“ اللہ کی قسم! اگر میں انصار پر کسی کو اختیار کروں تو اپنے کنبے والوں کو اختیار کروں (اور کوئی ان سے بہتر نہیں ہے)۔
صحیح مسلم حدیث ۶۴۲۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کے چار گھرانوں کا ذکر فرمایا: بنی نجار، بنی عبدالاشہل، بنی حارث بن خزرج اور بنی ساعدہ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی قسم کھا کر فرمایا کہ اگر انصار پر کسی کو ترجیح دینی ہوتی تو اپنے خاندان کو ترجیح دیتے۔ اس جملے سے حدیث کا مزاج صاف سمجھ آتا ہے کہ انصار کی فضیلت کا بیان کسی ذاتی تعلق کی وجہ سے نہیں، بلکہ وہی کہا گیا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا۔ انصار کی فضیلت اور بنی نجار کی فضیلت کے بارے میں یہ روایت بہت اہم ہے، لیکن اس میں “ہر گھر میں خیر” والا جملہ نہیں آیا، اس لیے تشریح اسی نقل تک محدود رہنی چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- فضیلت کا بیان ذاتی پسند یا رشتہ داری پر نہیں ہونا چاہیے۔
- انصار کے نام لیے گئے گھرانوں کا ذکر عزت کے ساتھ آیا ہے۔
- حدیث کے الفاظ جس حد تک ہوں، تشریح بھی اسی حد میں رہنی چاہیے۔
