صحیح مسلم حدیث ۶۴۳۲ - غفار و اسلم
قبیلہ اسلم اور غفار کے لیے نبوی دعا
صحیح مسلم : ۶۴۳۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۴۳۲
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ . ح وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ ، حَدَّثَنِي وَرْقَاءُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ . ح وحَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ حَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، عَنْ أَبِي عَاصِمٍ كِلَاهُمَا ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ . ح وحَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ ، حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ كُلُّهُمْ ، قَالَ : عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَسْلَمُ سَالَمَهَا اللَّهُ وَغِفَارُ غَفَرَ اللَّهُ لَهَا " .
جابر روایت:
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسلم کو اللہ تعالیٰ سلامت رکھے اور غفار کو اللہ تعالیٰ بخش دے۔“
صحیح مسلم حدیث ۶۴۳۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ دعا نقل ہوئی کہ اسلم کو اللہ تعالیٰ سلامت رکھے اور غفار کو اللہ تعالیٰ بخش دے۔ روایت میں مختلف اسناد کا ذکر آتا ہے، مگر ترجمہ کا مرکزی پیغام ایک ہی ہے: دو قبائل کے لیے خیر کی دعا۔ “غفار کی فضیلت” اور “اسلم قبیلہ کی دعا” جیسے سرچ الفاظ اس مضمون تک لے جاتے ہیں۔ تشریح میں کسی اضافی تاریخ یا وجہ کو شامل کرنا ضروری نہیں، کیونکہ فراہم کردہ متن میں صرف دعا بیان ہوئی ہے۔ یہ بات ضرور سمجھ آتی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا میں نام آنا ایک معزز ذکر ہے، اور مسلمان کو ایسی روایات پڑھتے ہوئے الفاظ کی حد کا خیال رکھنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلم کے لیے سلامتی کی دعا فرمائی۔
- غفار کے لیے بخشش کا ذکر حدیث میں واضح ہے۔
- مختلف سندوں کے باوجود اصل مضمون ایک ہی رہتا ہے۔
