صحیح مسلم حدیث ۶۴۴۳ - اسلم غفار مزینہ جہینہ کا ذکر خیر

اسلم، غفار، مزینہ اور جہینہ حدیث کا آسان مطلب

صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۴۴۳

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَيَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِيَانِ ابْنَ عُلَيَّةَ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَأَسْلَمُ ، وَغِفَارُ وَشَيْءٌ مِنْ مُزَيْنَةَ ، وَجُهَيْنَةَ ، أَوْ شَيْءٌ مِنْ جُهَيْنَةَ ، وَمُزَيْنَةَ خَيْرٌ عِنْدَ اللَّهِ " ، قَالَ : أَحْسِبُهُ ، قَالَ : يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ أَسَدٍ ، وَغَطَفَانَ ، وَهَوَازِنَ ، وَتَمِيمٍ " .

‏‏‏‏ ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔

صحیح مسلم حدیث ۶۴۴۳ کا خلاصہ

یہ روایت پچھلے مضمون کو ایک اور سند اور الفاظ کے ساتھ بیان کرتی ہے۔ اس میں اسلم، غفار، مزینہ اور جہینہ کے کچھ لوگوں کا ذکر ہے اور بتایا گیا کہ وہ اللہ کے نزدیک بہتر ہیں، پھر قیامت کے دن کا ذکر بھی آتا ہے۔ اس حدیث سے سرچ کرنے والے قاری کو یہ بات سمجھ آتی ہے کہ اسلم غفار مزینہ جہینہ حدیث ایک ہی مضمون کی متعدد روایتوں میں آئی ہے۔ یہاں بنی اسد، غطفان، ہوازن اور تمیم کا ذکر مقابلے کے طور پر ہوا ہے۔ اس سے ہمیں متن کے اندر رہتے ہوئے صرف اتنا سمجھنا چاہیے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض قبائل کی خاص فضیلت بیان فرمائی۔ کسی قبیلے کے بارے میں عمومی تبصرہ یا اضافی بحث اس روایت کے متن میں موجود نہیں، اس لیے وضاحت بھی اسی حد تک رکھی گئی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • ایک ہی مضمون مختلف الفاظ کے ساتھ نقل ہوا ہے۔
  • حدیث میں اللہ کے نزدیک بہتر ہونے کا بیان ہے۔
  • وضاحت کرتے وقت متن میں موجود قبیلوں ہی تک بات محدود رہنی چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں