صحیح مسلم حدیث ۶۴۳۹ - ولایت قبائل

قریش، انصار، اسلم اور غفار: اللہ اور رسول کے دوست

صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۴۳۹

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قُرَيْشٌ ، وَالْأَنْصَارُ ، وَمُزَيْنَةُ ، وَجُهَيْنَةُ ، وَأَسْلَمُ ، وَغِفَارُ ، وَأَشْجَعُ مَوَالِيَّ لَيْسَ لَهُمْ مَوْلًى دُونَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ " .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قریش، انصار، مزینہ، جہینہ، اسلم، غفار اور اشجع دوست ہیں اور ان کا حمایتی کوئی نہیں سوائے اللہ اور اس کے رسول کے۔“

صحیح مسلم حدیث ۶۴۳۹ کا خلاصہ

اس روایت میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قریش، انصار، مزینہ، جہینہ، اسلم، غفار اور اشجع دوست ہیں، اور اللہ اور اس کے رسول کے سوا ان کا کوئی حمایتی نہیں۔ اس حدیث کا اصل موضوع قبائل کی فضیلت اور اللہ و رسول کی ولایت ہے۔ یہاں خاص بات یہ ہے کہ قریش اور انصار کے ساتھ کئی دوسرے قبائل کا نام بھی آیا ہے۔ اس لیے صرف ایک قبیلے کو الگ کر کے پوری حدیث کا معنی محدود نہیں کرنا چاہیے۔ “قریش انصار مزینہ جہینہ”، “اسلم غفار اشجع” اور “اللہ اور رسول کے دوست” اس حدیث کے اچھے سرچ کی ورڈز ہیں۔ متن ہمیں بتاتا ہے کہ اصل سہارا اللہ اور اس کے رسول کی طرف نسبت میں ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • حدیث میں کئی قبائل کا نام ایک ساتھ عزت کے ساتھ آیا ہے۔
  • اللہ اور رسول کے سوا حمایتی نہ ہونے کا جملہ اصل پیغام کا حصہ ہے۔
  • کسی ایک نام پر رک کر باقی ناموں کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں