صحیح مسلم حدیث ۶۴۳۸ - ولایت قبائل

اللہ اور رسول کے دوست: انصار، مزینہ، جہینہ، غفار

صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۴۳۸

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ وَهُوَ ابْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْأَنْصَارُ ، وَمُزَيْنَةُ ، وَجُهَيْنَةُ ، وَغِفَارُ ، وَأَشْجَعُ ، وَمَنْ كَانَ مِنْ بَنِي عَبْدِ اللَّهِ مَوَالِيَّ دُونَ النَّاسِ ، وَاللَّهُ وَرَسُولُهُ مَوْلَاهُمْ " .

ابوایوب روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انصار، مزینہ، جہینہ، غفار، اشجع، جو عبدللہ کی اولاد ہے میرے دوست ہیں سوائے اور لوگوں کے اور اللہ اور اللہ کے رسول ان کے دوست ہیں۔“

صحیح مسلم حدیث ۶۴۳۸ کا خلاصہ

اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چند قبائل اور گروہوں کا نام لے کر فرمایا کہ انصار، مزینہ، جہینہ، غفار، اشجع اور بنی عبداللہ کی اولاد میں سے جو لوگ ہیں، وہ میرے دوست ہیں، اور اللہ اور اس کا رسول ان کے دوست ہیں۔ یہاں “دوست” یا “مولیٰ” کا لفظ تعلق، حمایت اور نسبت کے معنی میں آیا ہے، مگر تشریح کو متن سے آگے نہیں بڑھانا چاہیے۔ اس حدیث کا مرکزی موضوع قبائل کی فضیلت اور اللہ و رسول کی نسبت ہے۔ “اللہ اور رسول کے دوست”، “قبائل کی فضیلت” اور “انصار مزینہ جہینہ غفار” اس کے اہم سرچ الفاظ بن سکتے ہیں۔ حدیث میں ناموں کی ترتیب بھی اہم ہے، اس لیے انہیں بدل کر یا کم کر کے بیان نہیں کرنا چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چند قبائل کا نام لے کر عزت سے ذکر فرمایا۔
  • اللہ اور رسول کی دوستی کا ذکر حدیث کے الفاظ میں آیا ہے۔
  • قبائل کے نام نقل کرتے وقت ترتیب اور الفاظ کا خیال رکھنا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں