صحیح مسلم حدیث ۶۴۶ - جاگنے کے بعد تین بار ہاتھ دھونا
جاگنے کے بعد تین بار ہاتھ دھونے کا حکم
صحیح مسلم : ۶۴۶
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۴۶
وحَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ ، حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا اسْتَيْقَظَ أَحَدُكُمْ ، فَلْيُفْرِغْ عَلَى يَدِهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ قَبْلَ أَنْ يُدْخِلَ يَدَهُ فِي إِنَائِهِ ، فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي فِيمَ بَاتَتْ يَدُه ؟ " .
سیدنا ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی تم میں سے جاگے تو اپنے ہاتھ پر تین بار پانی ڈالے اس لئے کہ اس کو معلوم نہیں کہ کہاں رہا ہاتھ اس کا رات کو۔“
صحیح مسلم حدیث ۶۴۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی جاگے تو برتن میں ہاتھ ڈالنے سے پہلے اپنے ہاتھ پر تین بار پانی ڈالے، کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ رات کو اس کا ہاتھ کہاں رہا۔ یہاں بات بہت سادہ اور عملی ہے۔ آدمی جب نیند سے اٹھتا ہے تو فوراً برتن میں ہاتھ ڈالنے کے بجائے پہلے ہاتھ پر پانی ڈالے اور اسے تین بار دھوئے۔ یہ طہارت، صفائی اور پانی کی حفاظت کا ادب ہے۔ حدیث میں وجہ بھی بتائی گئی کہ ہاتھ کی رات والی حالت معلوم نہیں ہوتی۔ اس لیے یہ عمل شک اور گندگی کے امکان سے بچنے کا آسان طریقہ ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- جاگنے کے بعد ہاتھ پر تین بار پانی ڈالنا چاہیے۔
- برتن کے پانی کو صاف رکھنے کے لیے پہلے ہاتھ دھونا ضروری ادب ہے۔
- حدیث میں حکم کے ساتھ اس کی واضح وجہ بھی بیان ہوئی ہے۔
