صحیح مسلم حدیث ۶۴۷۵ - امانت اور وفا
امانت، نذر اور گواہی: خیر القرون کے بعد کی تنبیہ
صحیح مسلم : ۶۴۷۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۴۷۵
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ جَمِيعًا ، عَنْ غُنْدَرٍ ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، سَمِعْتُ أَبَا جَمْرَةَ ، حَدَّثَنِي زَهْدَمُ بْنُ مُضَرِّبٍ ، سَمِعْتُ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ يُحَدِّثُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ خَيْرَكُمْ قَرْنِي ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ " ، قَالَ عِمْرَانُ : فَلَا أَدْرِي ، أَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : بَعْدَ قَرْنِهِ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةً ، ثُمَّ يَكُونُ بَعْدَهُمْ قَوْمٌ يَشْهَدُونَ وَلَا يُسْتَشْهَدُونَ ، وَيَخُونُونَ وَلَا يُؤْتَمَنُونَ ، وَيَنْذِرُونَ وَلَا يُوفُونَ وَيَظْهَرُ فِيهِمُ السِّمَنُ .
ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔ اس میں یہ ہے کہ پھر وہ لوگ پیدا ہوں گے جو بن گواہ کیے گواہی دیں گے، چور ہوں گے، امانت داری نہ کریں گے نذر کریں گے لیکن پوری نہ کریں گے ان میں موٹاپا پھیلے گا۔
صحیح مسلم حدیث ۶۴۷۵ کا خلاصہ
یہ روایت خیر القرون کے ساتھ امانت، نذر اور گواہی کی تنبیہ بھی بیان کرتی ہے۔ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں بہتر میرا قرن ہے، پھر وہ جو اس کے بعد ہیں، پھر وہ جو اس کے بعد ہیں، پھر وہ جو اس کے بعد ہیں۔ راوی نے بتایا کہ انہیں معلوم نہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے قرن کے بعد دو قرن کہے یا تین۔ پھر فرمایا کہ ان کے بعد ایسے لوگ ہوں گے جو گواہی دیں گے جبکہ ان سے گواہی نہیں مانگی جائے گی، خیانت کریں گے، امانت دار نہیں ہوں گے، نذر کریں گے مگر پوری نہیں کریں گے، اور ان میں موٹاپا پھیلے گا۔ متن کے مطابق اصل سبق یہ ہے کہ سچی گواہی، امانت داری، اور نذر کی وفا سنجیدہ معاملات ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- بن مانگی گواہی کو اس روایت میں منفی انداز سے بیان کیا گیا۔
- خیانت اور امانت میں کمی بعد کے لوگوں کی خرابی کے طور پر آئی ہے۔
- نذر کر کے پوری نہ کرنا ناپسندیدہ عمل کے طور پر ذکر ہوا ہے۔
