صحیح مسلم حدیث ۶۴۹۴ - مصر والوں سے اچھا برتاؤ
مصر والوں سے اچھا برتاؤ: اہل مصر کی حدیث
صحیح مسلم : ۶۴۹۴
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۴۹۴
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، سَمِعْتُ حَرْمَلَةَ الْمِصْرِيَّ يُحَدِّثُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِمَاسَةَ ، عَنْ أَبِي بَصْرَةَ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّكُمْ سَتَفْتَحُونَ مِصْرَ ، وَهِيَ أَرْضٌ يُسَمَّى فِيهَا الْقِيرَاطُ ، فَإِذَا فَتَحْتُمُوهَا فَأَحْسِنُوا إِلَى أَهْلِهَا ، فَإِنَّ لَهُمْ ذِمَّةً وَرَحِمًا ، أَوَ قَالَ ذِمَّةً وَصِهْرًا ، فَإِذَا رَأَيْتَ رَجُلَيْنِ يَخْتَصِمَانِ فِيهَا فِي مَوْضِعِ لَبِنَةٍ ، فَاخْرُجْ مِنْهَا " ، قَالَ : فَرَأَيْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ شُرَحْبِيلَ بْنِ حَسَنَةَ ، وَأَخَاهُ رَبِيعَةَ ، يَخْتَصِمَانِ فِي مَوْضِعِ لَبِنَةٍ فَخَرَجْتُ مِنْهَا .
وہی مضمون ہے اس میں اتنا زیادہ ہے کہ ان سے دامادی کا بھی رشتہ ہے (وہ رشتہ یہ تھا کہ ابراہیم علیہ السلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحب زادہ کی ماں سیدہ ماریہ رضی اللہ عنہا مصر کی تھیں)۔
صحیح مسلم حدیث ۶۴۹۴ کا خلاصہ
اس روایت میں صاف طور پر مصر کا نام آیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم مصر فتح کرو گے، وہ ایسی زمین ہے جہاں قیراط کہا جاتا ہے۔ جب اسے فتح کرو تو اس کے لوگوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنا، کیونکہ ان کے لیے حق اور رشتہ ہے، یا فرمایا حق اور دامادی کا رشتہ ہے۔ پھر فرمایا کہ اگر وہاں دو آدمیوں کو ایک اینٹ کی جگہ پر جھگڑتے دیکھو تو وہاں سے نکل جانا۔ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے ایسا معاملہ دیکھا تو وہ وہاں سے نکل گئے۔ اس حدیث کا پیغام واضح ہے: اہل مصر سے حسن سلوک، رشتے کا ادب، اور جھگڑے سے بچنا۔ مصر کی حدیث اور اہل مصر کے حقوق جیسے سرچ الفاظ اسی روایت سے جڑے ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مصر کے لوگوں سے اچھا سلوک کرنے کی ہدایت دی گئی۔
- رشتے اور حق کا لحاظ اسلامی اخلاق میں اہم ہے۔
- چھوٹی بات پر جھگڑے سے دور رہنا بہتر ہے۔
- صحابہ حدیث سن کر اسے اپنی زندگی میں نافذ کرتے تھے۔
