صحیح مسلم حدیث ۶۴۹۵ - اہل عمان کے اچھے اخلاق
اہل عمان کے اچھے اخلاق: نہ گالی نہ مار پیٹ
صحیح مسلم : ۶۴۹۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۴۹۵
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ، عَنْ أَبِي الْوَازِعِ جَابِرِ بْنِ عَمْرٍو الرَّاسِبِيِّ ، سَمِعْتُ أَبَا بَرْزَةَ ، يَقُولُ : بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا إِلَى حَيٍّ مِنْ أَحْيَاءِ الْعَرَبِ ، فَسَبُّوهُ وَضَرَبُوهُ ، فَجَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْ أَنَّ أَهْلَ عُمَانَ أَتَيْتَ مَا سَبُّوكَ وَلَا ضَرَبُوكَ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو بھیجا عرب کے کسی قبیلہ کی طرف، ان لوگوں نے اس کو برا کہا اور مارا۔ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور یہ حال بیان کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تو عمان والوں کے پاس جاتا تو وہ تجھے برا نہ کہتے، نہ مارتے۔“ (کیونکہ وہاں کے لوگ اچھے ہیں)۔
صحیح مسلم حدیث ۶۴۹۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو عرب کے کسی قبیلے کی طرف بھیجا۔ وہاں لوگوں نے اسے برا کہا اور مارا۔ جب وہ واپس آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا حال بتانے لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تم عمان والوں کے پاس جاتے تو وہ تمہیں نہ برا کہتے اور نہ مارتے۔ اس روایت میں اہل عمان کے اچھے رویے کا ذکر آیا ہے۔ اصل پیغام یہ ہے کہ اچھے اخلاق، نرم برتاؤ، اور گالی و مار پیٹ سے بچنا قابل تعریف عمل ہے۔ اہل عمان کی حدیث، اچھے اخلاق کی حدیث، اور گالی نہ دینے کی حدیث جیسے الفاظ اس روایت کے اہم موضوعات ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- گالی دینا اور مارنا برا رویہ ہے۔
- اچھے اخلاق کسی قوم یا گروہ کی اچھی پہچان بن سکتے ہیں۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل عمان کے نرم برتاؤ کا ذکر فرمایا۔
- دعوت یا پیغام لے جانے والے کے ساتھ اچھا سلوک ہونا چاہیے۔
